مضامین بشیر (جلد 3) — Page 736
مضامین بشیر جلد سوم 736 ممکن ہے کہ ہم سندھ کے غیر مسلموں کو اسلام کی آغوش میں لانے کے لئے اور سندھ کے غیر احمد یوں کو احمدیت کے نور سے منور کرنے کے لئے خاص توجہ اور خاص جد و جہد اور خاص دعاؤں سے کام لیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اسلام کی ترقی کے دوسرے دور کی داغ بیل ڈالی ہے۔اور خدا کے فضل سے یہ درخت اب بڑھے گا اور پھولے گا اور پھلے گا اور کوئی نہیں جواسے روک سکے۔مگر ہم صرف خدائی وعدہ پر تکیہ کر کے خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔یقینا یہ خدا سے غداری ہوگی کہ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح یہ کہیں کہ جاتو اور تیرا رب اور تم دونوں دشمن کے مقابل پر ہو کر جنگ کرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہمارا کام رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کی طرح یہ ہے کہ ہم اپنے امام سے عرض کریں کہ ہم حاضر ہیں اور آپ کے سامنے اور آگے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں ہو کر لڑیں گے۔‘ ہی وہ روح ہے جس سے دین کی لڑائیوں میں فتح کا رستہ کھلا کرتا ہے اور اسی روح کی ہم اپنے نو جوانوں سے امید رکھتے ہیں۔مگر دینی جہاد کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارا قول اور ہمارا عمل دونوں مجسم تبلیغ بن جائیں۔ہماری زبانوں پر حق کی تبلیغ ہو اور ہمارے اعمال میں حق کی تصویر نظر آئے اور پھر اس رستہ میں ہماری جو بھی کوشش ہو وہ محبت اور نرمی اور نصیحت کے رنگ میں ہو۔اور جیسا کہ قرآن فرماتا ہے کہ : أدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل : 126) اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ نو جوانوں کے اندر احمدیت کی روح پھونکی جائے اور وہ اپنے آپ کو اسلام کا سپاہی سمجھیں اور اسی احساس میں اپنی زندگیاں گزاریں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور آپ کو اپنی رضا کے ماتحت زندگی گزارنے کی توفیق دے اور آپ لوگوں کو اس قسم کا روحانی مقناطیس بنائے جسے دوسروں کو اپنی طرف کھنچنے کی زبر دست طاقت حاصل ہو۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيم روزنامه الفضل ربوہ 24 نومبر 1959ء)