مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 482 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 482

مضامین بشیر جلد سوم حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ 482 بسم الله الرحمن الرحیم۔ہمارے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جس روز پنڈت لیکھرام کے قتل کے معاملہ میں حضرت مسیح موعود کے مکان کی تلاشی ہوئی تو اچانک پولیس کپتان مع ایک گروہ سپاہیوں کے قادیان آ گیا۔اور آتے ہی سب نا کے روک لئے۔باہر کے لوگ اندر اور اندر کے باہر نہ جاسکتے تھے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ یعنی حضرت والد صاحب جو مکان کے اندر تھے فورا حضور کے پاس پہنچے اور عرض کیا کہ ایک انگریز بمعہ سپاہیوں کے تلاشی لینے آیا ہے۔فرمایا۔بہت اچھا آجائیں۔میر صاحب واپس چلے تو آپ نے ان کو پھر بلایا اور ایک کتاب یا کاپی پر سے اپنا الہام دکھایا جو یہ تھا کہ مَا هَذَا إِلَّا لِتَهْدِيدِ الحُكّامِ یعنی یہ حکام کی طرف سے صرف ایک ڈراوا ہے۔اس کے بعد جب انگریز کپتان پولیس اندر داخل ہوا تو آپ اُسے ملے۔اس نے کہا کہ مرزا صاحب مجھے آپ کی تلاشی کا حکم ہوا ہے۔حضور نے فرمایا بے شک تلاشی لے لیں میں اس میں آپ کی مدد کروں گا۔یہ کہہ کر اپنا کمرہ اور صندوق، بستے اور پھر تمام گھر اور چوبارہ سب کچھ دکھایا۔انہوں نے تمام خط و کتابت میں سے صرف دو خط لئے جن میں سے ایک ہندی کا پرچہ تھا جو دراصل آنا وغیرہ خریدنے اور پسوانے کی رسید یعنی ٹو مبو تھا۔دوسرا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچازاد بھائی مرزا امام الدین یعنی محمدی بیگم کے ماموں کا تھا۔پھر وہ لوگ چند گھنٹے بعد چلے گئے۔چاشت کے وقت وہ لوگ قادیان آئے تھے۔اس کے بعد دوبارہ دو ہفتہ کے بعد اس خط کی بابت دریافت کرنے کے لئے ایک انسپکٹر پولیس بھی آیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ 1897 ء کا واقعہ ہے اور اس کے متعلق مزید تفصیل دوسری روایتوں مثلاً روایت (460) میں گزر چکی ہے۔یہ روایت ہمارے ماموں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کی تھی۔مگر افسوس ہے کہ اس کی اشاعت کے وقت حضرت میر صاحب وفات پاچکے ہیں۔حضرت میر محمد اسماعیل صاحب جولائی 1947 ء میں قادیان میں فوت ہوئے تھے اور میں اس تالیف کی نظر ثانی اکتوبر 1949ء میں لاہور میں کر رہا ہوں۔بسم الله الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ تمام انبیاء کے نام چونکہ خدا کی طرف سے رکھے جاتے ہیں اس لئے ہر ایک کے نام میں اس کی کسی بڑی صفت کی پیشگوئی موجود ہوتی ہے۔مثلاً آدم گندم گوں اقوام کا باپ۔ابراہیم قوموں کا باپ۔اسماعیل خدا نے دعا کو سن لیا۔یعنی اولاً اولاد کے متعلق ابراہیم کی دعا کوسن لیا اور پھر مکہ کی وادی غیر ذی زرع میں اسماعیل کی پکار کو۔اور پانی مل گیا اور آبادی کی صورت پیدا ہوگئی۔اسحق اصل میں اضحاک