مضامین بشیر (جلد 3) — Page 327
مضامین بشیر جلد سوم 1 ریکارڈنگ مشین کے ذریعہ اسلام کے غلبہ کا پیغام احمدیت کی ترقی کے متعلق حضرت مسیح موعود کی زبر دست پیشگوئی 327 چند دن ہوئے مجھے عزیزم مکرم چوہدری انور احمد صاحب حال ڈھاکہ مشرقی پاکستان نے اپنی ریکارڈنگ مشین میں ریکارڈ شدہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جلسہ سالانہ کی تقریر کا ایک نہایت روح پرور حصہ سنایا اور ساتھ ہی اس خاکسار سے خواہش کی کہ میں بھی ان کی مشین میں اپنے چند الفاظ ریکارڈ کر دوں۔مجھے اس وقت وہ زمانہ یاد آگیا جبکہ قادیان میں حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کے ذریعہ پہلی دفعہ فونوگراف کا آلہ آیا تھا اور قادیان کے بعض غیر مسلموں نے یہ درخواست کی تھی کہ اس آلہ پر انہیں بھی کچھ سنایا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی درخواست کو غنیمت جانتے ہوئے اس موقع پر چند اشعار کہے جس میں غیر مسلموں کو اسلام کی تبلیغ کی گئی تھی اور اس نظم کا پہلا شعر یہ تھا: آواز آرہی ہے یہ فونو گراف ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف - ހނ بی نظم مولوی عبدالکریم صاحب نے نہایت خوش الحانی کے ساتھ فونوگراف میں بھری (اس زمانہ میں یہ آله فونوگراف کہلاتا تھا) اور پھر یہ ریکارڈ قادیان کے ہندوؤں وغیرہ کو سنایا گیا اور اس طرح انہوں نے فونوگراف کا ریکارڈ بھی سن لیا جو اس زمانہ میں ایک عجوبہ چیز تھی اور انہیں اسلام کی تبلیغ بھی ہوگئی۔چنانچہ مقدس مثال کی اتباع میں میں نے بھی خیال کیا کہ میں بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا کر چوہدری انور احمد صاحب کی ریکارڈنگ مشین میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض پیشگوئیاں بھر دوں۔تا کہ گو آواز اس خاکسار کی ہو اور اس طرح ایک عزیز کی خواہش بھی پوری ہو جائے مگر کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہو، تا دنیا اس کلام سے فائدہ اٹھائے۔اور یہ کلام اپنے وقت پر پورا ہو کر خدا کا ایک نشان ٹھہرے۔چنانچہ ذیل میں وہ عبارت درج کی جاتی ہے جو اس موقع پر میں نے چوہدری انور احمد صاحب کی مشین میں بھری۔یہ خدائے ذوالجلال کی ایک زبر دست پیشگوئی ہے جو انشاء اللہ اپنے وقت پر ضرور پوری ہوگی اور احمدیت کے ذریعہ دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو کر رہے گا۔کیونکہ قضاء آسمانست ایں بہر حالت شود پیدا