مضامین بشیر (جلد 2) — Page 898
مضامین بشیر ۸۹۸ وصول کرتا اور زیادہ طاقت کے ساتھ آگے پہنچاتا ہے مگر دوسرا سیٹ جو نسبتا کمزور ہوتا ہے اس پیغام کو نہ تو اس صفائی سے وصول کر سکتا ہے اور نہ ہی اس طاقت کے ساتھ آگے پہنچا سکتا ہے۔اوپر کے بیان سے ظاہر ہے کہ نبیوں اور رسولوں کی کامیابی میں خدا کی نصرت کے علاوہ خود نبیوں کی اپنی قوت قدسیہ اور اپنے اوصاف حمیدہ کا بھی بھاری دخل ہوتا ہے اور لازماً یہی اصول خلفاء اور دوسرے اماموں میں بھی چلتا ہے۔پس جہاں ہمارا یہ فرض ہے کہ ہر خلیفہ اور ہر امام کے واسطے دعائیں کریں وہاں ہمارا بدرجہ اولے یہ بھی فرض ہے کہ جو خلیفہ اور امام خدا کی نصرت کا زیادہ جاذب اور خدا کی طرف سے قوت قدسیہ کا زیادہ حامل ہو، اس کے لئے زیادہ توجہ اور زیادہ درد اور زیادہ سوز و گداز داور کے ساتھ دعائیں کریں کیونکہ اس کی زندگی سے محروم ہونا جماعت کے لئے بہت بھاری صدمہ اور بہت بڑا دھکا ہوتا ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وقت کی نزاکت کو پہچانتے ہوئے ان ایام کو بہت زیادہ دعاؤں اور بہت زیادہ صدقہ و خیرات میں گزاریں اور اس کے ساتھ اپنے اندر نیک تبدیلی بھی پیدا کریں کیونکہ ہما را قدرشناس خدا اپنے نیک بندوں کی دعائیں زیادہ قبول کرتا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ صدقہ و خیرات کا روپیہ کسی صورت میں خرچ کیا جائے۔سواسلام نے اس کے تین عام طریق مقرر کئے ہیں اوّل صدقہ کے طور پر کوئی جانور ذبح کر کے اس کا گوشت غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کرنا۔دوسرے کھانا پکا کر بھوکوں اور بیواؤں اور یتیموں کو کھلانا اور تیسرے حاجت مندوں اور محتاجوں میں نقد روپیہ بانٹنا۔پس حتی الوسع ان تینوں طریقوں پر صدقہ ہونا چاہئے اور ہر صورت میں خاص کوشش کے ساتھ حقیقی غریبوں اور حاجت مندوں کو تلاش کر کے ان کو مدد پہنچانی چاہئیے اور اس کوشش میں ان لوگوں کو بھی نہیں بھلانا چاہئے جو بظا ہر سفید پوش ہیں اور سوال سے حتی الوسع پر ہیز کرتے ہیں مگر اندرون خانہ ان کی حالت سخت تنگی کی حالت ہوتی ہے اور زیادہ تر انہی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے قرآن شریف فرماتا ہے کہ : في أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ ۵۳ د یعنی مومنوں کی دولت میں ہم نے سائلوں کے علاوہ ان لوگوں کا بھی حق مقر ر کیا ہے جو حیا اور خود داری کی وجہ سے سوال سے پر ہیز کرتے ہیں مگر ویسے وہ حاجت مند اور غریب ہیں۔“ اسی طرح حدیث سے ثابت ہے کہ بھو کے جانوروں کو کھانا کھلانا بھی ثواب کا موجب ہے حتی کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک کنچنی کو خدا نے صرف اس وجہ سے بخش دیا کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو جو پانی تک پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا پانی پلا کر پیاس کی موت سے بچایا تھا۔پس اگر کوئی جانور