مضامین بشیر (جلد 2) — Page 613
۶۱۳ مضامین بشیر احمدی شہدا کی فہرست درکار ہے احباب جماعت توجہ فرمائیں گو ۱۹۴۷ء کے قیامت خیز طوفان میں خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کا جانی نقصان نسبتاً بہت کم ہوا۔تاہم جیسا کہ اس قسم کے عام ہنگامہ میں ہوا کرتا ہے، کئی احمدی افراد شہید ہوئے اور خود مرکز سلسلہ یعنی قادیان میں بھی بعض لوگوں نے ان فسادات میں شہادت پائی۔چونکہ ایسے دوستوں کے اسماء مرتب کر کے محفوظ کر لینا ضروری ہیں اور سلسلہ کی تاریخ کا ایک اہم ورق ہے اس لئے احباب جماعت کو تحریک کی جاتی ہے کہ ان کے علم میں جو جو احمدی افراد ( مرد اور عورت اور بچے اور بوڑھے ) گذشتہ فسادات میں شہید ہوئے ہوں ، ان کی فہرست مرتب کر کے خاکسار راقم الحروف کو ارسال فرما دیں۔میری دانست میں احمدی شہداء کی سب سے بڑی تعدا دریاست پٹیالہ سے تعلق رکھتی ہے اور نسبتی لحاظ سے سب سے کم لوگ قادیان میں شہید ہوئے ہیں۔البتہ ضلع گورداسپور کے بعض دوسرے مقامات مثلاً موضع و نجواں اور موضع فیض اللہ چک میں احمدی شہداء کی تعداد کافی رہی ہے۔اسی طرح اضلاع جالندھر اور ہوشیار پور میں بھی غالباً یہ تعداد زیادہ ہوگی۔بہر حال جس جس جگہ احمدی شہید ہوئے ہوں وہاں کے دوستوں کو چاہیئے کہ یہ فہرست جلد تر مرتب کر کے مجھے بھجوا دیں۔اس فہرست میں ذیل کے کوائف درج کئے جائیں : - ا۔نام شہید ۲۔ولدیت ۳۔سکونت ضلع ۵۔تاریخ شہادت اگر یا د ہو اور مختصر کوائف شہادت اگر معلوم ہوں میں امید کرتا ہوں کہ دوست اس تاریخی ریکارڈ کی طرف کماحقہ توجہ دے کر ممنون فرمائیں گے۔( مطبوعه الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۴۹ء)