مضامین بشیر (جلد 2) — Page 600
مضامین بشیر ۶۰۰ اوپر کی کوٹھیوں اور مکانوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کے کمروں کی تعداد پندرہ پندرہ ہیں ہیں تیں تھیں تھی اور بعض کے ساتھ وسیع باغات بھی ملحق تھے اور قریباً سب کے سب میں بجلی لگی ہوئی تھی اور کئی ایک میں اپنے موٹر پمپ بھی تھے۔صرف مثال کے طور پر اتنا ذکر کرنا کافی ہے کہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے مکمل مکان کا کرایہ ۳/۵/۰ لگایا گیا ہے۔حالانکہ انہیں اس مکان کے صرف ایک حصے کا کرایہ / ۰ ۵ مل رہا تھا۔یہی حال دوسرے مکانوں اور دوسری کو ٹھیوں کا ہے۔جس فراخ دلی سے پاکستان میں کرائے تجویز کئے جارہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے میں خیال کرتا ہوں کہ غالباً اوپر کے سارے مکانوں کا مجموعی کرایہ لاہور کی ایک اچھی کوٹھی کے کرایہ سے بھی کم ہوگا۔مثلاً سنا گیا ہے (واللہ اعلم) کہ جو دھامل کا کرایہ / ۴۰۰ روپے اور رتن باغ کا کرایہ/ ۲۰۰ روپے تجویز کیا جا رہا ہے۔حالانکہ اوپر کی فہرست کی ۳۷ عدد کوٹھیوں اور مکانوں کا مجموعہ کرایہ / ۱۰ / ۲۸۹ روپے بنتا ہے۔بہر حال یہ اعداد و شمار پاکستان کی پبلک اور حکومت کے لئے بے حد قابل غور ہیں اور دونوں جہت سے اصلاح کی ضرورت ہے۔ایک یہ کہ پاکستان میں کرائے نہایت معقول طور پر کم کئے جائیں اور دوسرے یہ کہ جو کرائے ہندوستان میں مسلمانوں کے متروکہ مکانوں کے لگائے جا رہے ہیں ، انہیں وزارتی لیول پر گفت و شنید کر کے اور مناسب اصول تجویز کر کے معقول صورت میں زیادہ کروایا جائے۔ورنہ جب دونوں حکومتوں کے درمیان مترو کہ جائیداد کے آخری فیصلہ کی نوبت آئے گی تو اس وقت پاکستان بے حد خسارہ میں رہے گا اور افراد کا نقصان مزید برآں ہوگا۔مطبوعہ الفضل ۲۶ ؍ جولائی ۱۹۴۹ء)