مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 530 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 530

مضامین بشیر ۵۳۰ پھر فرماتے ہیں : ان الله عز وجل قَدْاذْهَبَ عَنْكُمُ عُبَيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالأَ بَاءِ مَؤْمِنَّ تَقِي وَفَاجِرُ شَقِي وَالنَّاسِ بَمُوادَمَ وَادَمُ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ د و یعنی اے مسلمانو! خدا تعالیٰ نے ایمان کے ذریعہ تم میں سے زمانہ جاہلیت کے بیجا غرور اور آباؤ اجداد کی وجہ سے بے جا تفاخر کرنے کی مرض کو دور کر دیا ہے کیونکہ اسلامی پیما نہ صرف یہ ہے کہ ایک شخص خدا کو ماننے والا اور نیک عمل بجالانے والا ہوتا ہے اور دوسرا بد عمل ہوتا ہے اور اچھے اوصاف سے محروم ، اور یا درکھو کہ سب لوگ آدم کی نسل سے ہیں اور آم مٹی سے پیدا ہوا تھا۔“ پھر فرماتے ہیں : النَّاسُ مَعَادَن خِيَارُهُم فِى الجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا - دد یعنی دنیا میں لوگ بھی معدنیات کی طرح ہیں جو ایک ہی قسم کے عناصر ہوتے ہوئے اور ایک ہی قسم کی مٹی کے نیچے دبے ہوئے آہستہ آہستہ مختلف رنگ اور مختلف اوصاف اختیار کر لیتے ہیں مگر سُن لو کہ ترقی اور بڑائی کی جو معروف علامتیں اسلام سے پہلے سمجھی جاتی تھیں (یعنی عقل و دانش ، سخاوت و شجاعت طاقت واثر و غیره) وہی اب بھی قائم ہیں۔اور جو لوگ ان اوصاف کی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں بڑے سمجھے جاتے تھے ، وہ اب اسلام میں بھی بڑے سمجھے جائیں گے ( کیونکہ اسلام کسی شخص کی حاصل شدہ بڑائی کو چھینتا نہیں ) مگر شرط یہ ہے کہ وہ علم دین اور ذاتی نیکی اختیار کر لیں۔“ اوپر کے حوالوں سے جو اسلامی مساوات کے نظریہ کے متعلق اصولی رنگ رکھتے ہیں مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں : ا۔یہ کہ اپنی اصل کے لحاظ سے سب لوگ ایک باپ کی نسلی اور ایک درخت کی شاخیں ہیں اور کسی فرد کو دوسرے فرد پر اور کسی قوم کو دوسری قوم پر محض نسلی فرق کی بناء پر کوئی امتیاز حاصل نہیں۔۲۔یہ کہ مسلمان ایک نبی کی امت اور ایک ایمان کے حامل ہونے کی وجہ سے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔۔یہ کہ زمین کے اندر کی معدنیات کی طرح مختلف قومیں اور مختلف افراد ایک دوسرے سے مختلف اوصاف اختیار کر سکتے ہیں اور کر لیتے ہیں مگر ان کی وجہ سے کسی فرد کو دوسرے فرد پر اور کسی قوم کو