مضامین بشیر (جلد 2) — Page 5
مضامین بشیر العظيم وجزاهم الله خيراً۔باقی رہا وہ طبقہ جنہوں نے ہماری مخالفت کی ہے سوان میں سے جن لوگوں نے نیک نیتی کے ساتھ ایسا کیا ہے ان سے ہمیں کوئی گلہ نہیں کیونکہ نیک نیتی کا اختلاف قابل ملامت نہیں بلکہ قابل قدر ہوتا ہے۔ہاں ہم امید کرتے ہیں کہ یہ لوگ بھی چوہدری صاحب موصوف کی ممبری کے عملی تجربہ کے نتیجہ میں اپنی رائے میں تبدیلی کر کے آئندہ الیکشن میں ہمارے ساتھ ہوں گے۔کیونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے جس میں مذہبی عقائد کا اختلاف کسی عقلمند کے نزدیک روک کا باعث نہیں ہونا چاہیئے۔بالآخر میں مکرم چوہدری فتح محمد صاحب کو اس کا میابی پر مبارکباد دیتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے بہتری کی دعا کرتے ہوئے یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ ممبری ان کے لئے دہری امانت ہے۔وہ امانت ہے خدا کی جس کے سامنے وہ اپنے اعمال کے جوابدہ ہیں اور وہ امانت ہے اس حلقہ کے مسلمانوں کی جن کے نمائندہ بن کر وہ اسمبلی میں جا رہے ہیں۔پس انہیں ان دونوں امانتوں کو پوری پوری دیانتداری اور وفاداری کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے۔خدا کی امانت تو زیادہ تر دل کی نیت اور جذبات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔مگر لوگوں کی امانت کے لئے ان کا پہلا فرض یہ ہے کہ گا ہے گا ہے علاقہ کا دورہ کر کے لوگوں کی ضرورت اور مشکلات کا علم حاصل کرتے رہیں اور پھر اسمبلی میں ان کے حقوق کی پوری پوری حفاظت کریں۔نیز انہیں یا د رکھنا چاہیئے کہ وہ صرف انہی لوگوں کے نمائندہ نہیں ہیں جنہوں نے ان کے حق میں ووٹ دیئے ہیں بلکہ ممبر ہو جانے کے بعد وہ ان لوگوں کے بھی نمائندہ ہیں جو الیکشن میں ان کے مخالف رہے ہیں۔پس گو طبعاً ان کی دلی محبت اپنے ان مویدین کے ساتھ زیادہ ہوگی جنہوں نے مشکل کے وقت میں ان کا ساتھ دیا ہے۔مگر جہاں تک حقوق کا تعلق ہے انہیں اپنے مخالفین کے ساتھ بھی پوری طرح عدل و انصاف کا معاملہ کرنا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور انہیں اپنے فرائض کی بہترین ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ( مطبوعه الفضل ۲۲ فروری ۱۹۴۶ء)