مضامین بشیر (جلد 1) — Page 259
۲۵۹ مضامین بشیر لَيْلَةُ الْقَدْر کی دُعا اور تحریک مصالحت رمضان المبارک کا مہینہ ہے اور آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے۔جس کی طاق راتوں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہدائت فرمائی ہے کہ اس میں لیلۃ القدر کو تلاش کیا جائے۔اس مبارک رات کی فضیلتوں میں سے ایک فضیلت ایک صحابی بروایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں بیان کرتے ہیں کہ جو شخص لیلۃ القدر کو کچی نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خشنودی کے حصول کے لئے کھڑا ہو کر عبادت اور دعا میں گزارتا ہے۔اس کے تمام سابقہ گناہ بخشے جاتے ہیں گویا یہ رات گنا ہوں کی معافی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خاص رات ہے پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ اگر میں لیلة القدر کو پاؤں تو کیا دعا کروں۔آپ نے فرمایا یہ دعا کرو: - اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي كَا کہ اے اللہ تعالیٰ یقینا تو گناہوں کو بہت معاف کرنے والا ہے اور تو معاف کرنے کو پسند کرتا ہے پس مجھے بھی معافی عطا فرما اور مجھے عفو کی چادر میں لپیٹ لے۔“ یہ حدیث بھی بتاتی ہے کہ اس رات کا گناہوں کے عفو اور خدا کی خوشنودی کے حصول سے خاص تعلق ہے۔کیا ہی مبارک یہ مہینہ ہے اور کیا ہی مبارک یہ رات ہے جو ہمار لئے ہمارے مالک حقیقی کی رضا اور خوشنودی کا دروازہ کھولنے کے لئے دوڑی چلی آرہی ہے۔پس اے احمدیت کے فرزند و آؤ ہم ان مبارک گھڑیوں میں سب کے سب اپنے گناہ بخشوا لیں اور اپنے مالک حقیقی کو راضی کر کے اپنے دلوں کو اس کا تخت گاہ بنا ئیں۔اور اسی کے ہو جائیں اور اس زریں موقع کو ضائع نہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کشتی نوح میں فرماتے ہیں: و اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا۔تم دشمن سے غافل ہو گے اور خدا اسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا‘۱۸۰ پھر فرماتے ہیں :- ہرا یک جو پیچ در پیچ طبیعت رکھتا ہے اور خدا کے ساتھ صاف نہیں ہے۔وہ اس