مضامین بشیر (جلد 1) — Page 215
۲۱۵ مضامین بشیر کتابت ، طباعت اور کاغذ کا بھی عمدہ انتظام کیا گیا ہے۔کتاب کا سائز ۲۰×۲۶ ہے۔کاغذ اعلیٰ ساخت کا چھپائی عمدہ، لکھائی دیدہ زیب اور مسطر ۲۲ سطری ، حاشیہ کھلا ، اصل متن کا قلم جلی اور ترجمہ اور نوٹوں کا قلم قدرے خفی رکھا گیا ہے۔تا کہ اصل اور ترجمہ میں امتیاز رہے اور حجم چھ ساڑھے چھ سو صفحات کے لگ بھگ اور قیمت بلا جلد دوروپے الغرض یہ مجموعہ الہامات جس کا نام حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ”تذکرہ تجویز فرمایا ہے۔اپنی باطنی اور ظاہری خوبیوں کے لحاظ سے اس قابل ہو گیا ہے کہ دوست اسے زیادہ سے زیادہ تعداد میں خریدیں اور پڑھیں اور اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔چونکہ قلت سرمایہ کی وجہ سے صرف ایک ہزار ہی چھپوایا گیا ہے۔اس لئے دوستوں کو چاہیئے کہ اس نعمت غیر مترقبہ کو جلد سے حاصل کر لیں۔ورنہ ختم ہو جانے پر پھر انتظار کرنا پڑے گا۔لہذا جو دوست چاہتے ہیں کہ اس دُرِ بے بہا کو جلد تر حاصل کریں اور اعلان ہذا پڑھتے ہی اپنا آرڈر بھجوا دیں۔احباب کی خاطر اس مجموعہ کی جلد بھی کروائی جا رہی ہے۔جلد انشاء اللہ مضبوط ، خوبصورت اور سادے کپڑے کی ہوگی اور اس پر کتاب کا نام سنہری حرفوں سے لکھا ہوگا۔امید ہے کہ دوست اس نادر موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں گے۔مطبوعه الفضل ۲۸ نومبر ۱۹۳۵ء)