مضامین بشیر (جلد 1) — Page 173
۱۷۳ مضامین بشیر ہندوستان کے شمال مشرق کا تباہ کن زلزلہ اور خدا کے زبر دست نشانوں میں سے ایک تازہ نشان ہر مامور مرسل کے ساتھ نشانات بھیجے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی یہ قدیم سنت ہے کہ جب وہ دنیا کی اصلاح کے لئے اپنے کسی بندے کو مامورفر ما تا ہے تو اس کی تائید کے لئے اپنی طرف سے غیبی نشانات بھی ظاہر کرتا ہے تا کہ حق و باطل میں امتیاز ہو جائے اور سعید روحیں صداقت کی طرف راستہ پانے میں روشنی حاصل کریں۔یہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک رحمت کے نشان اور دوسرے قہری نشان۔ہر چند کہ ہر مامور من اللہ خدا کی طرف سے اصل میں رحمت کا پیغام لے کر ہی آتا ہے اور خود اس کا وجود ایک مجسم رحمت ہوتا ہے لیکن چونکہ دنیا میں ہر مامور کا انکار کیا جاتا ہے۔جیسا کہ فرمایا : - يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَا دِمَايَا تِيْهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وَنَا یعنی اے افسوس لوگوں پر ان کی طرف کوئی رسول نہیں آتا مگر یہ اس کا انکار کرتے اور اس کے دعوے کو ہنسی کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔“ اس لئے لازماً ہر مامور ومرسل کو رحمت کے نشانوں کے ساتھ ساتھ قہر اور عذاب کے نشان بھی دیئے جاتے ہیں لیکن چونکہ خدا کی رحمت بہر حال اس کے عذاب پر غالب ہے۔اس لئے جہاں رحمت کے لئے کوئی حد بندی نہیں، وہاں خدا تعالیٰ نے خود اپنے عذاب کے لئے ازل سے چند اصولی قاعدے اور حد بندیاں مقرر کر رکھی ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے :- وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُ ونَ۔وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا۔یعنی اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کو اس حالت میں عذاب نہیں دیتا کہ وہ اپنی غلطیوں کو