مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 123 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 123

۱۲۳ ۱۹۲۸ء مضامین بشیر سودی لین دین کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ کچھ عرصہ ہوا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خط اخبار الفضل میں شائع کرایا تھا جو حضور نے سیٹھی غلام نبی صاحب کے نام لکھا تھا اور جس میں سودی لین دین کے متعلق ایک اصولی فتویٰ درج تھا۔اس پر بعض دوستوں کی طرف سے یہ تحریک ہوئی ہے کہ چونکہ یہ فتوی ایک اہم مسئلہ کے متعلق ہے اس لئے اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خط کا عکس بھی شائع کر دیا جائے تو بہتر ہے۔اور ساتھ ہی سیٹھی صاحب سے وہ حالات قلم بند کر وا کے شائع کئے جائیں جن کے ماتحت ان کو حضرت سے اس استفسار کی ضرورت پیش آئی۔چنانچہ اس کے متعلق میں نے سیٹھی صاحب سے دریافت کیا ہے اور انہوں نے جو تحریر جواب میں مجھے ارسال کی ہے وہ درج ذیل ہے۔احباب سیٹھی صاحب کے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحت عطا فرمائے کیونکہ وہ مرض دمہ سے بہت بیمار رہتے ہیں۔سیٹھی صاحب کا خط جو انہوں نے میرے خط کے جواب میں لکھا درج ذیل ہے۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ سیدی و مولائی سلمہ اللہ الرحمن یا سیدی میں راولپنڈی دکان بزازی اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ کرتا تھا۔وہاں پر ہمارا دستور تھا کہ جس قدر روپیہ زائد ہو صراف کے پاس جمع کرتے جاتے تھے اور جب ضرورت ہوتی اس سے لے کر کام میں لاتے تھے اور لین دین سودی ہوتا تھا یعنی سود لیتے اور دیتے تھے۔میں جب احمدی ہوا تو آہستہ آہستہ شریعت پر عمل شروع کیا لیکن چونکہ میرے شرکاء زبر دست اور میں کمزور تھا اور وہ اس طریق سودی کو چھوڑتے نہیں تھے اور میرے حصہ کا سود خود بھی نہیں کھاتے تھے بلکہ بحصہ رسدی سال بسال مجھ کو لینا پڑتا تھا۔اور میں والد صاحب کی زندگی میں کچھ کر نہیں