میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 265
245۔ہوا اور حضور نے ابھی درس شروع نہیں کیا تھا کہ میں نے حضور سے درخواست کی کہ آج میں آپ کو سانس دلا دوں" فرانے لگے ضرور۔چنانچہ عاجز نے درس دیتا شروع کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات سنا رہا تھا کہ حضور نے میرا کرتے ہلکا سا کھینچا۔میں چپ ہو گیا اور حضور احباب کو مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ درس کے بعد سارے دوست ان سے اچھی طرح مل کر تابعی بن جائیں یہ وہ وجود ہے جو مسیح زمان کے ساتھ رہا۔چنانچہ میں نے دوبارہ درس دینا شروع کیا درس کے بعد آپ کمرے کے اندر تشریف لے گئے اور سارے احباب میرے ساتھ مصافحہ کرنے لگے۔اور جو برکت ہم نے امام مہدی علیہ السلام سے حاصل کی ہے اس کا فیض آگے احباب میں جاری ہوا۔الحمد للہ رب العالمین چند دن مزید وہاں سیر کی اور پھر واپس پاکستان لوٹ آیا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب رفیق بانی سلسلہ کی وفات اور نماز جنازہ ۱۹۸۵ء میں صدر صاحب صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے پیغام آیا کہ حضرت چوہدری محمد ظن ر ظفر اللہ خان صاحب وفات پاگئے ہیں اور حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے حکم ہے کہ آپ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں۔خاکسار حکم کی تعمیل میں مغرب کی نماز کے بعد صدر انجمن احمدیہ کے احاطہ میں حاضر ہوا وہاں کثیر تعداد میں احباب جمع تھے اور انہوں نے قطار میں بنائی ہوئی تھیں خاکسار چونکہ بیمار تھا اور کھڑا نہیں ہو سکتا تھا لہذا احباب نے مجھے کرسی پر بٹھا دیا بعدہ حضرت چوہدری صاحب کی نماز جنازہ خاکسار نے پڑھائی۔