مسیحی انفاس — Page 70
☐ ง تھے۔تھے۔ان کم بخت عیسائیوں کو اتنا خیال نہیں آتا کہ عیسی کے پانچ بھائی اور دو بہنیں تھیں جو کہ مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئی تھیں۔پس کیا وجہ ہے کہ مریم کو خداؤں کی ماں اور مسیح کے بھائیوں کو خدا نہ کہا جاوے۔ملفوظات۔جلد ۶ صفحه ۱۴۸ مسیح کہتا ہے کہ مجھے نیک مت کہہ۔اس کی تاویل عیسائی یہ کرتے ہیں کہ مسیح کا منشا یہ تھا کہ مجھے خدا ہے۔یہ کیسے تعجب کی بات ہے۔کیا مسیح کو ان کی والدہ مریم یا ان کے بھائی مسیح کو ان کی والدہ یا بھائی خدا نہیں کتے سے ہی خدا کہتے تھے جو وہ نہیں آرزو اس شخص سے رکھتے تھے کہ وہ بھی خدا کہے انہوں نے یہ لفظ تو اپنے عزیزوں اور شاگردوں سے بھی نہیں سنا تھا۔وہ بھی استاد استاد ہی کہا کرتے تھے۔پھر یہ آرزو اس غریب سے کیونکر ان کو ہوئی۔کیا وہ خوش ہوتے تھے کہ انہیں کوئی خدا کہے۔یہ بالکل غلط ہے۔ان کو نہ کسی نے اوستاد یہ کہا اور نہ انہوں نے کہلوایا۔پھر ایک اور توجیہ کرتے ہیں کہ دراصل وہ شخص منافق تھا۔اسلئے حضرت مسیح گویا خفا ہوئے کہ تو نیک کیوں کہتا ہے کیونکہ تو مجھے نیک نہیں جانتا۔یہ بھی بالکل غلط بات ہے کہاں سے معلوم ہوا کہ وہ منافق تھا۔ملفوظات۔جلدی صفحہ ۴۰۶ مجھے تعجب ہے کہ عیسائیوں کو کس بات پر ناز ہے۔اگر ان کا خدا ہے تو وہی ہے جو مدت ہوئی کہ مرگیا اور سری نگر محلہ خانیار کشمیر میں اس کی قبر ہے اور اگر اس کے معجزات کیا عیسائیوں کو اس خدا ہیں تو وہ دوسرے نبیوں سے بڑھ کر نہیں ہیں بلکہ الیاس نبی نے معجزات اس سے بہت پر ناز ہے ؟ زیادہ ہیں۔اور بموجب بیان یہودیوں کے اس سے کوئی معجزہ نہیں ہوا محض فریب اور مکر تھا۔اور پیش گوئیوں کا یہ حال ہے جو اکثر جھوٹی نکلی ہیں۔کیا باراں حواریوں کو وعدہ کے موافق باراں تخت بہشت میں نصیب ہو گئے کوئی پادری صاحب تو جواب دیں ؟ کیا دنیا کی بادشاہت حضرت عیسی کو ان کی اس پیش گوئی کے موافق مل گئی جس کے لئے ہتھیل کتابت کی غلطی ہے۔یہ لفظ "خدا" ہونا چاہئے۔(مرتب)