مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 632

مسیحی انفاس — Page 62

۶۲ اس زمانہ کے عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو خالق کی نسبت کمال غلو تک پہنچ گیا ہے۔اس میں تو کچھ شک نہیں جو حضرت عیسی علیہ السّلام خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ نبی ہیں اور بلاشبہ عیسی مسیح خدا کا پیارا خدا کا بر گزیدہ اور دنیا کا نور اور ہدایت کا آفتاب اور مجازی کلام۔جناب الہی کا مقرب اور اس کے تخت کے نزدیک مقام رکھتا ہے اور کروڑہا انسان جو اس سے بچی محبت رکھتے ہیں اور اس کی وصیتوں پر چلتے ہیں اور اس کی ہدایات کے کار بند ہیں وہ جہنم سے نجات پائیں گے لیکن با ایس یہ غلطی اور کفر ہے کہ اس بر گزیدہ کو خدا بنایا جائے۔خدا کے پیاروں کو خدا سے ایک بڑا تعلق ہوتا ہے۔اس تعلق کے لحاظ سے اگر وہ پنے تئیں خدا کا بیٹا کہہ دیں کہ خدا ہی ہے جو ان میں بولتا ہے اور وہی ہے جس کا جلوہ ہے تو یہ باتیں بھی کسی حال کے موقع میں ایک معنے کے رو سے صحیح ہوتے ہیں جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ انسان جب خدا میں فنا ہو کر اور پھر اس کے نور سے پرورش پا کر نئے سرے ظاہر ہوتا ہے تو ایسے لفظ اس کی نسبت مجازاً بولنا قدیم محاوره اہل معرفت ہے کہ وہ خود نہیں بلکہ خدا ہے جو اس میں ظاہر ہوا ہے لیکن اس سے در حقیقت یہ انہم نہیں کھلتا کہ وہی شخص در حقیقت رب العالمین ہے۔اس نازک محل میں اکثر عوام کا قدم پھل جاتا ہے اور ہزار ہا بزرگ اور ولی اور اوتار جو خدا بنائے گئے وہ بھی دراصل انہیں لغزشوں کی وجہ سے بنائے گئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب روحانی اور آسمانی باتیں عوام کے ہاتھ میں آتی ہیں تو وہ ان کی جڑ تک نہیں پہنچ سکتے۔آخر کچھ بگاڑ کر اور مجاز کو حقیقت پر حمل کر کے سخت غلطی اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔سواسی غلطی میں کے علماء مسیحی بھی گرفتار ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی طرح نضرت مسیح علیہ السّلام کو خدا بنا دیا جائے سو یہ حق تلفی خالق کی ہے۔اشتہار ۲۵ مئی ۱۹۰۰ - مجموعہ اشتہارات - جلد ۳ صفحه ۲۴۵،۲۴۴ سورہ فاتحہ میں جس خدا کو پیش کیا ہے دنیا کا کوئی مذہب اسے پیش نہیں کرتا۔عیسائیوں نے جو خدا دکھایا ہے۔اسکے مقابلہ میں ہم کہتے عیسائی مذہب اور اسلام ہیں۔لفيلد - وَلَمْ يُولد ہے۔ہاں اگر مریم کے میں کا خدا که جدا کند پیٹ میں واقعی خدا آ گیا تھا تو چاہئے تھا کہ وہ پیٹ ہی میں مریم کو وعظ کرتے اور ایک لمبا لیکچر دیتے جس کو دوسرے لوگ بھی سن لیتے تو اس خارق عادت لیکچر کو سن کر سارے تصویر