مسیحی انفاس — Page 51
۵۱ اور بے انتہا قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے۔وہ اخیر پر ایسا بد نصیب اور کمزور اور ذلیل حالت میں ہو جائے کہ شریر انسان اس کو اپنے ہاتھوں میں مل ڈالیں۔اگر کوئی ایسے خدا کو پوجے اور اس پر بھروسہ کرے تو اسے اختیار ہے۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر آریوں کے پر میشر کے مقابل پر بھی عیسائیوں کے خدا کو کھڑا کر کے اس کی طاقت اور قدرت کو وزن کیا جائے۔تب بھی اس کے مقابل پر یہ بیچ محض ہے۔کیونکہ آریوں کا فرضی پر میشر اگر چہ پیدا کرنے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا۔لیکن لکھتے ہیں کہ پیدا شدہ چیزوں کو کسی قدر جوڑ سکتا ہے۔مگر عیسائیوں کے یسوع میں تو اتنی بھی طاقت ثابت نہ ہوئی۔جس وقت یہودیوں نے صلیب پر کھینچ کر کہا تھا کہ اگر تو اب اپنے آپ کو بچائے تو ہم تیرے پر ایمان لاویں گے۔تو وہ ان کے سامنے اپنے تئیں بیچا نہ سکا۔ورنہ اپنے تئیں بچانا کیا کچھ بڑا کام تھا۔صرف اپنی روح کو اپنے جسم کے ساتھ جوڑنا تھا۔سو اس کمزور کو جوڑنے کی بھی طاقت نہ ہوئی پیچھے سے پردہ داروں نے باتیں بنائیں کہ وہ قبر میں زندہ ہو گیا تھا۔مگر افسوس کہ انہوں نے نہ سوچا کہ یہودیوں کا تو یہ سوال تھا کہ ہمارے روبرو ہمیں زندہ ہو کر دکھلاوے۔پھر جب کہ ان کے رو برو زندہ نہ ہو سکا اور نہ قبر میں زندہ ہو کر ان سے آکر ملاقات کی۔تو یہودیوں کے نزدیک بلکہ ہر یک محقق کے نزدیک اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حقیقت میں زندہ ہو گیا تھا اور جب تک ثبوت نہ ہو تب تک اگر فرض بھی کرلیں کہ قبر میں لاش گم ہو گئی۔تو اس سے زندہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ عند العقل یقینی طور پر یہی ثابت ہو گا کہ در پردہ کوئی کرامات دکھلانے والا چرا کر لے گیا ہو گا۔دنیا میں بہتیرے ایسے گزرے ہیں کہ جن کی قوم یا معتقدوں کا یہی اعتقاد تھا کہ ان کی نعش گم ہو کر وہ مع جسم بہشت میں پہنچ گئی ہے۔تو کیا عیسائی قبول کر لیں گے کہ فی الحقیقت ایسا ہی ہوا ہو گا۔مثلاً دور نہ جاؤ۔بابا نانک صاحب کے واقعات پر ہی نظر ڈالو کہ ۱۷ لاکھ سکھ صاحبوں کا اسی پر اتفاق ہے کہ در حقیقت وہ مرنے کے بعد مع اپنے جسم کے بہشت میں پہنچ گئے اور نہ صرف اتفاق بلکہ ان کی معتبر کتابوں میں جو اسی زمانہ میں تالیف ہوئیں۔یہی لکھا ہوا ہے۔اب کیا عیسائی صاحبان قبول کر سکتے ہیں کہ حقیقت میں بابا نانک صاحب معمے جسم بہشت میں ہی چلے گئے ہیں۔افسوس کہ عیسائیوں کو دوسروں کے لئے تو فلسفہ یاد آجاتا ہے مگر اپنے گھر کی نا معقول باتوں سے فلسفہ کو چھونے بھی نہیں دیتے۔اگر عیسائی صاحبان کچھ انصاف سے کام لینا چاہیں تو جلد سمجھ سکتے ہیں کہ سکھ صاحبوں کے دلائل بابا نانک