مسیحی انفاس — Page 598
صفحه 149 اقتباس ۱۴۱ ۱۴۲ 16۔عنوان جو خود لعنتی ہو گیاوہ دوسروں کا شفیع کیسے ہو سکتا ہے؟ یہودی رفع روحانی کے منکر تھے۔قرآن کریم نے حضرت میلے کا رفع روحانی ثابت کیا اور لعنت کے مفہوم سے بچایا۔۱۴۳ مسیح کے متعلق افراط و تفریط۔۱۷۲ ۱۴۴ ۱۷۳ ۱۷۵ 164 166 169 ملکہ معظمه (وکٹوریہ ) سے مسیح سے لعنت کا مفہوم دور کرنے کی درخواست- قیصر روم کی طرح فرقہ موحدین اور مشرکین میں مباحثہ کرانے کی درخواست- ۱۲۵ گناہ سے بچنے کاطریق اور یسوع سے لعنتوں کا دفع۔۱۴۶ کیا موت آدم کے گناہوں کا پھل ہے؟ حوا کے چار گناہ تھے۔آدم معذور سمجھا گیا۔کن خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حوا کی برتیت ظاہر نہیں فرمائی۔جس شخص کی پیدائش میں نر کا حصہ نہیں وہ کمزور ہے۔آدم گناہ سے نہیں مرا بلکہ مرنا ابتداء سے انسانی بناوٹ کا خاصہ ہے۔حضرت آدم کبھی شرک میں مبتلا نہیں ہوئے۔شرک عورت سے شروع ہوا۔۱۵۰ یسوع موروثی اور کیسی گناہ سے پاک نہ تھا ۱۵۱ حضرت مسیح دکھ ، درد میں مبتلا ہوئے۔ملک صدق سالم ہر طرح کے گناہ سے پاک تھا۔شفاعت کے لئے صرف معصوم ہوتا ہی ضروری نہیں بلکہ ابنیت بھی ضروری ہے۔۱۵۲ مسیح شہر قصور اور خطا سے پاک نہیں تھے۔IMI ۱۵۳ ۱۵۴ ۱۸۵ نہ عدل باقی رہا نہ رحم خدا کو عدل کی کچھ پرواہ نہیں۔عدل بھی تو ایک رحم ہے۔۵۹۸