مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 564 of 632

مسیحی انفاس — Page 564

۵۶۴ گوئی حضرت بھی کی پیش ایسا ہی یوحنانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جا مد علیہ وسلم کی حلالیت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے بطور پیش گوئی گواہی دی جو انجیل متی باب سوم میں اس طرح پر درج ہے (۱۱) میں تو تمہیں تو بہ کے لئے پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن وہ جو میرے بعد آتا ہے مجھ سے قوی تر ہے کہ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں وہ تمہیں روح مقدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا۔اس پیش گوئی میں محض نادانی کی راہ سے عیسائی لوگ خصومت کرتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے مگر یہ دعوی سراسر باطل و بے بنیاد ہے اول تو حضرت مسیح حضرت یوجنا کے ہمعصر تھے نہ کہ بعد میں آنے والے یا بعد میں اہنیت کا لقب پانے والے۔ماسوا سا کے ہر یک شخص آزما سکتا ہے کہ دائمی طور پر بچے طالبوں کو روح قدس اور آتش محبت سے بپتسما دینے والا آسمان کے نیچے صرف ایک ہی ہے یعنی جناب سید ناو مولانا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جس کے جلال نام کا حضرت مسیح اپنی پیش گوئیوں میں آپ اقرار کرتے ہیں۔اور اسی روح کے بپتسما کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اشارہ تبھی فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَايَّدَهُم بِرُوا مِنْهُ یعنی خدائے تعالٰی مومنوں کو روح قدس سے تائید کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے۔صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِن مِـ اللَّهِ صِبْغَةً یعنی یہ خدا کا بپتسما ہے اور کون سا بپتسما اس سے بڑھ کر خوبصورت ہے۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جو قوم روح القدس سے کسی وقت تائید دی گئی ہے وہ اب بھی دی جاتی ہے کیونکہ اب بھی وہی خدا ہے جو پہلے تھا اور قوم بھی وہی ہے جو پہلے تھی سواگر حضرات عیساؤں کو اس بات میں کچھ شک ہو کہ اس پیش گوئی کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حضرت مسیح نہیں ہیں تو نہایت صاف اور سہل طریق فیصلہ کرنے کا یہ ہے کہ چالیس دن تک کوئی ایسے پادری صاحب جو اپنی قوم میں نہایت بزرگ اور روح قدس کا بپتسمہ پانے کے لائق خیال کئے جاتے ہیں اور ان کی بزرگواری اور خدار سیدہ ہونے پر اکثر عیسائیوں کو اتفاق ہو وہ اس امر کی آزمائش و مقابلہ کے لئے کہ روح قدس کی تائیدات سے کونسی قوم عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے فیضیاب ہے کم سے کم چالیس دن تک اس عاجز کی رفاقت اور مصاحبت اختیار کریں پھر اگر کسی کرشمہ روح القدس کے دکھلانے میں وہ غالب آجائیں تو ہم اقرار کرلیں گے کہ یہ پیش گوئی حضرت مسیح علیہ