مسیحی انفاس — Page 37
۳۷ مسلمانوں کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ ان کا خدا دعاوں کا سننے والا ہے۔قرآن شریف میں ایک مقام پر ان لوگوں کے لئے جو گوسالہ پرستی کرتے ہیں اور گوسالہ کو خدا بناتے ہیں۔آیا ہے الا يرجع اليهم قولاً کہ وہ ان کی بات کا کوئی جواب ان کو نہیں دیتا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو خدا بولتے نہیں ہیں وہ گوسالہ ہی ہیں۔ہم نے عیسائیوں سے بار ہا پوچھا ہے کہ اگر تمہارا خدا ایسا ہی ہے جو دعاوں کو سنتا ہے اور ان کے جواب دیتا ہے تو یتا وہ کس سے بولتا ہے ؟ تم جو یسوع کو خدا کہتے ہو پھر اس کو بلا کر دکھاؤ۔میں دعوی سے کہتا ہوں کہ سارے عیسائی اکٹھے ہو کر بھی یسوع کو پکار میں وہ یقینا کوئی جواب نہ دے گا کیونکہ وہ مر گیا۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۲۰۲،۲۰۱ ۲۲ مسیح کی زندگی کے حالات پڑھو تو صاف معلوم ہو گا کہ وہ خدا نہیں ہے۔اس کو اپنی زندگی میں کس قدر کو فیتیں اور کلفتیں اٹھانی پڑیں اور دعا کی عدم قبولیت کا کیسا برا نمونه دعاکی عدم قبولیت اس کی زندگی میں دکھایا گیا۔خصوصاً باغ والی دعا جو ایسے اضطراب کی دعا ہے وہ بھی قبول نہ ہوئی اور وہ پیالہ ٹل نہ سکا۔پس ایسی حالت میں مقدیم یہ ہے کہ تم اپنی حالت کو درست کرو اور انسان کی پرستش چھوڑ کر حقیقی خدا کی پرستش کرو۔ملفوظات جلد ۶ صفحه ۱۰۳ نیز ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۳۳ پھر ایک اور پہلو سے بھی مسیح کی خدائی کی پڑتال کرنی چاہئے کہ اخلاقی حالت تو خیر یہ تھی ہی کہ یہود کے معزز بزرگوں کو آپ گالیاں دیتے تھے۔لیکن جب ایک وقت قابو آگئے کوئی اس خدا سے کیا تو اس قدر دعاکی جس کی کوئی حد نہیں۔مگر افسوس سے دیکھا جاتا ہے کہ وہ ساری رات کی ان من و خوانا گیا ہے پائے گا دعا عیسائیوں کے عقیدے کے موافق بالکل رو ہو گئی اور اس کا کوئی بھی نتیجہ نہ کر دیا نہیں جاتا ؟ ہوا۔اگر چہ خدا کی شان کے ہی یہ خلاف تھا کہ وہ دعا کرتے۔چاہئے تو یہ تھا کہ اپنی اقتداری قوت کا کوئی کرشمہ اس وقت دکھا دیتے۔جس سے بیچارے یہود اقرار اور تسلیم کے سوا کوئی چارہ ہی نہ دیکھتے۔مگر یہاں الٹا اثر ہو رہا ہے۔اور او خود گم است کرار هبری کند