مسیحی انفاس — Page 520
۵۲۰ احیاء موتی ر" رہا حضرت عیسی کا احیاء موتی۔اس میں روحانی احیاء موتی کے تو ہم بھی قائل ہیں اور ہم مانتے ہیں کہ روحانی طور پر مردے زندہ ہوا کرتے ہیں اور اگر یہ کہو کہ ایک شخص مر گیا اور پھر زندہ ہو گیا یہ قرآن شریف یا احادیث سے ثابت نہیں ہے اور ایسا ماننے سے پھر قرآن شریف اور احادیث نبوی گویا ساری شریعت اسلام ہی کو ناقص ماننا پڑے گا۔کیونکہ رد الموتی کے متعلق مسائل نہ قرآن شریف میں ہیں نہ حدیث نے کہیں ان کی صراحت کی ہے اور نہ فقہ میں کوئی بات اس کے متعلق ہے غرض کسی نے بھی اس کی تشریح نہیں کی۔اس طرح پر یہ مسئلہ بھی صاف ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸ ہم اعجازی احیاء کے قائل ہیں مگر یہ بات بالکل ٹھیک نہیں ہے کہ ایک مردہ اس طرح زندہ ہوا ہو کہ وہ پھر اپنے گھر میں آیا اور رہا اور ایک عمر اس نے بسر کی اگر ایسا ہوتا تو قرآن احیاء موتی ناقص ٹھرتا ہے کہ اس نے ایسے شخص کی وراثت کے بارے میں کوئی ذکر نہ کیا۔سے یہ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱۶ اصل میں احیاء موتی پر ہمارا یہ ایمان نہیں ہے۔نہ احیائے موتی یہ مطلب ہے کہ حقیقی مردہ کا احیاء کیا گیا احیائے موتی کے معنی یہ ہیں احیاء موتی که (۱) روحانی زندگی عطا کی جاوے (۲) یہ کہ بذریعہ دعا ایسے انسان کو شفادی جاوے کہ وہ گویا مردوں میں شمار ہو چکا ہو جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے کہ فلاں تو مر کر جیا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۷ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۷۴ اگر کوئی کہے کہ حضرت عیسی علیہ السّلام مردے زندہ کرتے تھے یہ کتنا بڑ انشان ان مردے زندہ کرنے کو دیا گیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ واقعی طور پر مردہ کا زندہ ہونا قرآن شریف کی تعلیم کے بر خلاف ہے ہاں جو مردہ کے طور پر بیمار تھے اگران کو زندہ کیا تو اس جگہ بھی ایسے مردے زندہ ہو چکے ہیں اور پہلے نبی بھی کرتے رہے ہیں جیسا الیاس نبی۔مگر عظیم الشان نے سے مراد اور ہیں جن کو خدا دکھلا رہا ہے اور دکھلائے گا۔