مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 454 of 632

مسیحی انفاس — Page 454

۴۵۴ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کے رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔خدا نے ایسا کیا نہ میرے لئے بلکہ اپنے نبی مظلوم کے لئے۔دافع البلاء - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۴۰، ۲۴۱ قرآن شریف نے ہی کامل تعلیم عطا کی ہے اور قرآن شریف کا ہی ایسا زمانہ تھا جس میں کامل تعلیم عطا کی جاتی۔پس یہ دعوی کامل تعلیم کا جو قرآن شریف نے کیا یہ اسی قرآن شریف نے ہی کا حق تھا اس کے سوا کسی آسمانی کتاب نے ایسا دعوی نہیں کیا جیسا کو دیکھنے والوں کامل تعلیم عطا کی پر ظاہر ہے کہ توریت اور انجیل دونوں اس دعوے سے دست بردار ہیں۔کیونکہ بت میں خدا تعالیٰ کا یہ قول موجود ہے کہ میں تمہارے بھائیوں میں سے ایک نبی قائم کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو شخص اس کے کلام کو نہ سنے گا میں اس سے مطالبہ کروں گا۔پس صاف ظاہر ہے کہ اگر آئندہ زمانہ کی ضرورتوں کی رو سے توریت کا سننا کافی ہوتا تو کچھ ضرورت نہ تھی کہ کوئی اور نہیں آتا اور مواخذہ الہیہ سے مخلصی پانا اس کلام کے سننے پر موقوف ہوتا جو اس پر نازل ہوتا۔ایسا ہی انجیل نے کسی مقام میں دعوی نہیں کیا کہ انجیل کی تعلیم کامل اور جامع ہے بلکہ صاف اور کھلا کھلا اقرار کیا ہے کہ اور بہت سی باتیں قابل بیان تھیں مگر تم برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب فارقلیط آئیگا تو وہ سب کچھ بیان کرے گا۔اب دیکھنا چاہئے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی توریت کو ناقص تسلیم کر کے آنے والے نبی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی ایسا ہی حضرت عیسی نے بھی اپنی تعلیم کا نا مکمل ہونا قبول کر کے یہ عذر پیش کر دیا کہ ابھی کامل تعلیم بیان کرنے کا وقت نہیں ہے لیکن جب فار قلیط آئے گا تو وہ کامل تعلیم بیان کر دے گا۔مگر قرآن شریف نے توریت اور انجیل کی طرح کسی دوسرے کا حوالہ نہیں دیا بلکہ اپنی کامل تعلیم کا تمام دنیا میں اعلان کر دیا اور فرمایا کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَنتُ عليكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلَامَ دِيناً