مسیحی انفاس — Page 387
۳۸۷ تنازعات کا آپ فیصلہ کرتا اور خطا کار کو اس کی خطا کاری پر متنبہ فرماتا۔پس سمجھنا چاہئے کہ قرآن شریف کے نزول کی یہی ضرورت تھی کہ تا وہ اختلافات کو دور کرے۔اور جن صداقتوں کے ظاہر ہونے کا باعث انتشار خیالات فاسدہ کے وقت آگیا تھا۔ان صداقتوں کو ظاہر کر دے اور علم دین کو مرتبہ کمال تک پہنچا دے۔سو اس پاک کلام نے نزول فرما کر ان سب مراتب کو پورا کیا اور سب بگاڑوں کو درست فرمایا اور تعلیم کو اپنے حقیقی کمال تک پہنچایا۔نہ دانت کے عوض خواہ نخواہ دانت نکالنے کا حکم دیا۔اور نہ ہمیشہ مجرم کے چھوڑنے اور عفو کرنے پر فرمان صادر کیا۔بلکہ حقیقی نیکی کے بجالانے کے لئے تاکید فرمائی۔خواہ وہ نیکی کبھی درشتی کے لباس میں ہو اور خواہ کبھی نرمی کے لباس میں اور خواہ کبھی انتقام کی صورت میں ہو اور خواہ کبھی عفو کی صورت میں۔براہین احمدیہ - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۰۰ تا ۳۰۴ بقیه حاشیه در حاشیہ نمبر ۲ قاصر ہے۔۲۶۴ حضرت عیسی کی ہمت صرف یہود کے چند فرقوں تک محدود تھی جو ان کی نظر کے سامنے تھے اور دوسری قوموں اور آئندہ زمانہ کے ساتھ ان کی ہمدردی کا کچھ تعلق نہ تھا اس لیئے قدرت الہی کی بجلی بھی ان کے مذہب میں اسی حد تک محدود رہی جس قدر ان کی انجیل عام اصلاح سے ہمت تھی۔اور آئندہ الہام اور وحی الہی پر مہرلگ گئی۔اور چونکہ انجیل کی تعلیم بھی صرف یہود کی عملی اور اخلاقی خرابیوں کی اصلاح کے لئے تھی۔تمام دنیا کے مفاسد پر نظر نہ تھی۔اس لئے انجیل بھی عام اصلاح سے قاصر ہے۔بلکہ وہ صرف ان یہودیوں کی موجودہ بد اخلاقی کی اصلاح کرتی ہے جو نظر کے سامنے تھے۔اور جو دوسرے ممالک کے رہنے والے یا آئندہ زمانہ کے لوگ ہیں ان کے حالات سے انجیل کو کچھ سروکار نہیں۔اور اگر انجیل کو تمام فرقوں اور مختلف طبائع کی اصلاح مد نظر ہوتی تو اس کی یہ تعلیم نہ ہوتی جواب موجود ہے۔لیکن افسوس یہ ہے کہ ایک طرف تو انجیل کی تعلیم ہی ناقص تھی اور دوسری طرف خود ایجاد غلطیوں نے بڑا نقصان پہنچایا جو ایک عاجز انسان کو خواہ نخواہ خدا بنا یا گیا اور کفارہ کا من گھڑت مسئلہ پیش کر کے عملی اصلاحوں کی کوشش کا یکلخت دروازہ بند کر دیا گیا۔اب عیسائی قوم دو گونہ بدقسمتی میں مبتلا ہے۔ایک تو ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے