مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 632

مسیحی انفاس — Page 342

سلام سلام۔واذكر فى الكتب مريم اذا نتبذت مِن أهْلِها مَكَانًا شرقيًا - یعنی مریم کو کتاب میں یاد کر جبکہ وہ اپنے اہل سے ایک شرقی مکان میں دور پڑی ہوئی تھی - سوخدا نے مریم کے لفظ کی وجہ تسمیہ یہ قرار دی کہ مریم حضرت علیسی کے پیدا ہونے کے وقت اپنے لوگوں سے دور و مہجور تھی یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس کا لڑکا عیسی قوم سے قطع کیا جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کشمیر میں جاکر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔- يُزَارُ وَيُتَبَرَكَ به۔به ہاں ہم نے کسی کتاب میں لکھا ہے کہ حضرت سیخ کی بلاد شام میں قبر ہے۔مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کے لئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے جو کشمیر میں ہے اور ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا جس سے وہ نکل آئے اور جب تک وہ کشمیر میں زندہ رہے ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر مقام کیا گیا گویا آسمان پر چڑھ گئے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ یسوع صاحب کی قبر جو یوز آسف کی قبر کر کے مشہور ہے۔وہ جامع مسجد سے آتے ہوئے بائیں طرف واقع ہوتی ہے۔جب ہم جامع مسجد سے اس مکان میں جائیں جہاں شیخ عبد القادر رضی اللہ عنہ کے تبرکات ہیں تو یہ قبر تھوڑی شمال کی جانب عین کوچہ میں ملے گی اس کو چہ کا نام خانیار ہے اور یہ اصل قدیم شہر سے قریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے جیسا کہ ڈاکٹر بر نیر نے لکھا ہے پس اس بات کو بھی خیانت پیشہ عیسائیوں کی طرح ہنسی میں نہیں اڑانا چاہئے کہ حال میں ایک انجیل تبت سے دفن کی ہوئی نکلی ہے جیسا کہ وہ شائع بھی ہے چکی ہے۔بلکہ حضرت مسیح کے کشمیر میں آنے کا یہ ایک دوسرا قرینہ ہے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ اس انجیل کا لکھنے والا بھی بعض واقعات کے لکھنے میں غلطی کرتا ہو جیسا کہ پہلی چار انجیلیں بھی غلطیوں سے بھری ہوئی ہیں۔مگر ہمیں اس نادر اور عجیب ثبوت سے بجلی منہ نہیں پھیرنا چاہئے جو بہت سی غلطیوں کو صاف کر کے دنیا کو صحیح سوانح کا چہرہ دکھلاتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔ہو ست بچن۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۲ تا ۳۰۷ حاشیه