مسیحی انفاس — Page 17
لا دروازے سے دھکے دیتے ہیں۔اور منقولی دستاویزیں جو گذشتہ نیتوں کی مسلسل تعلیموں سے پیش کرنی چاہئے تھیں وہ ان کے پاس موجود نہیں۔مگر پھر بھی ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف نہیں۔انسان کی عقلمندی یہ ہے کہ ایسا مذ ہب اختیار کرے کہ جس کے اصول خداشناسی پر سب کا اتفاق ہو اور عقل بھی شہادت دے اور آسمانی دروازے بھی اس مذہب پر بند نہ ہوں۔سو غور کر کے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں صفتوں سے عیسائی مذہب بے نصیب ہے اس کا خداشناسی کا طریق ایسا نرالا ہے کہ نہ اس پر یہودیوں نے قدم مارا اور نہ دنیا کی اور کسی آسمانی کتاب نے وہ ہدایت کی۔اور عقل کی شهادت کا یہ حال ہے کہ خود یورپ میں جس قدر لوگ علوم عقلیہ میں ماہر ہوتے جاتے ہیں وہ عیسائیوں کے اس عقیدہ پر ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ عقلی عقیدے سب کلیت کے رنگ میں ہوتے ہیں۔کیونکہ قواعد کلیہ سے ان کا استخراج ہوتا ہے۔لہذا ایک فلاسفر اگر اس بات کو مان جائے کہ یسوع خدا ہے تو چونکہ دلائل کا حکم کلیت کا فائدہ بخشتا ہے اس کو ماننا پڑتا ہے کہ پہلے بھی ایسے کروڑ ہا خدا گذرے ہیں اور آگے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ باطل ہے۔اور آسمانی شہادت کا یہ حال ہے کہ اگر تمام پادری مسی مسیح کرتے مر بھی جائیں تاہم ان کو آسمان سے کوئی نشان نہیں مل سکتا۔کیونکہ مسیح خدا ہو تو نشان دے۔وہ تو بیچارہ اور عاجزان کی فریاد سے بے خبر ہے۔اور اگر خبر بھی ہو تو کیا کر سکتا ہے۔دنیا میں ایسا مذہب اور ان صفات کا جامع صرف اسلام ہے۔ہر ایک مذہب کی خداشناسی کے اگر زوائد نکال دئے جائیں اور مخلوق پرستی کا حصہ الگ کر دیا جائے تو جو باقی رہے گا وہی توحید اسلامی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی توحید سب کی مانی منائی ہے۔پس ایسے لوگ کس قدر اپنے تئیں خطرہ میں ڈالتے ہیں کہ ایک امر کو جو مسلم الکل ہے قبول نہیں کرتے اور ایسے عقیدوں کی پیروی کرتے ہیں جو محض ان کے اپنے دعوے ہیں اور عام قبولیت سے خالی ہیں۔اگر قیامت کے دن حضرت مسیح نے کہہ دیا کہ میں تو خدا نہیں تھا۔تم نے کیوں خواتنخواہ میرے ذمہ خدائی لگادی تو پھر کہاں جائیں گے اور کس کے پاس جاکر روئیں گے!!؟ کتاب البریۃ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۵۴،۵۳