مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 632

مسیحی انفاس — Page 256

اور بھی عورتیں تھیں۔اور انہوں نے پتھر کو قبر پر سے ڈھول کا ہوا پایا اس مقام میں ذرہ غور کرو) اور اندر جا کے خداوند یسوع کی لاش نہ پائی یہ دیکھ لوقا باب ۲۴- آیت ۲ و ۳ - اب اندر جانے کے لفظ کو ذرہ سوچو۔ظاہر ہے کہ انسی قبر کے اندر انسان جا سکتا ہے کہ ہوا ایک کوٹھے کی طرح ہو۔اور اُس میں کھڑکی ہو۔اور ہم اپنے محل پر اسی کتاب میں بیان کریں گے کہ حال میں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سری نگرکشمیر میں پائی گئی ہے۔ہ بھی اس قبر کی طرح کھڑکی دار ہے۔اور یہ ایک بڑے راز کی بات ہے میں پر توجہ کرنے سے محققین کے دل ایک عظیم الشان نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۴ تا ۲۷ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں بلاطس کا وہ قول ہے جو انجیل مرقس میں لکھا ہے اور وہ یہ ہے اور جبکہ شام ہوئی اس لئے کہ تیاری کا دن تھا جو سبت سے پہلے ہوتا۔یوسف ارمیا جو نامور مشیر اور وہ خود خدا کی بادشاہت کا منتظر تھا آیا اور دلیری سے پلاطس کے پاس جا کے یسوع کی لاش مانگی اور پلاٹس نے متعجب ہو کرشبہ کیا کہ ہولینے مسیح ایسا جلد مرگیا" دیکھو مرقس باب ۶ آیت ۴۲۲ سے ۴۴ تک۔اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عین صلیب کی گھڑی میں ہی یسوع کے مرنے پر شبہ ہوا۔اور شہد بھی ایسے شخص نے کیا جس کو اس بات کا تجربہ تھا کہ اس قدر مدت میں صلیب پر جان نکلتی ہے۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۷ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں انجیل کی وہ عبارت ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔پھر یہودیوں نے اس لحاظ سے کہ لاشیں سبت کے دن صلیب پر نہ رہ جائیں۔کیونکہ وہ دن طیاری کا تھا۔بلکہ بڑا ہی سبد تھا۔پہلا طوس سے عرض کی کہ انکی ٹانگیں توڑی اور لاشیں اتاری جائیں۔تب سپاہیوں نے آکر پہلے اور دوسرے کی ٹانگیں جو اس کے ساتھ ۲۵۶ ۲۱۲ ۲۱۳