مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 632

مسیحی انفاس — Page 243

۲۴۳ سچائی کے لئے کھیلاب میں چونکہ مسیح موعود ہوں اس لئے حضرت مسیح کی عادت کا رنگ مجھ میں پایا جانا ضروری ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام وہ انسان تھے جو مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب پر چڑھے۔گو خدا کے رحم نے ان کو بچالیا۔اور مرہم عیسی نے ان زخموں کو اچھا کر کے آخر کشمیر جنت نظیر میں ان کو پہنچا دیا۔سو انہوں نے سچائی کے لئے صلیب سے پیار سے پیار کیا۔اور اس طرح اس پر چڑھ گئے جیسا کہ ایک بہادر سوار خوش عنان گھوڑے پر چڑھتا ہے۔سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب سے پیار کرتا ہوں۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جس طرح خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے حضرت مسیح کو صلیب سے بیچالیا۔اور ان کی تمام رات کی دعا جو باغ میں کی گئی تھی قبول کر کے ان کو صلیب کے نتیجوں سے نجات دی۔ایسا ہی مجھے بھی بچائے گا۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۹۹ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو حضرات عیسائیاں انجیلوں کے حوالہ سے یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کے اس واقعہ کو یونس کے واقعہ اور اسحاق کے واقعہ سے مشابہت تھی پھر یسوع کے اور پھر آپ ہی اس مشابہت کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں۔کیا وہ ہمیں بتلا سکتے ہیں کہ واقعہ کا مکان کے واقعہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں مردہ ہونے کی حالت میں داخل ہوا تھا اور مردہ ہونے کی سے کیا مشابہت ہے حالت میں اس کے اندر دو یا تین دن تک رہا۔پس یونٹ سے یسوع کی مشابہت کیا ہوئی۔زندہ کو مردے سے کیا مشابہت ؟ اور کیا حضرات عیسائیاں ہمیں بتلا سکتے ہیں کہ اسحاق "حقیقت میں ذبح ہو کر پھر زندہ کیا گیا تھا۔اور اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یسوع کے واقعہ کو اسحاق " کے واقعہ سے کیا مشابہت ؟ حقیقت الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۲ اصل فلاسفی اس مسئلہ میں یہ ہے کہ کوئی نبی نبیوں میں سے خدا کا پیارا نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی ولی ولیتوں میں سے اس کا محبوب ٹھہر سکتا ہے جب تک کہ ایک مرتبہ موت کا نہیوں اور ولیوں پر خوف یا موت کے مشابہ اس پر ایک واقعہ وار دنہ ہوئے۔اور اسی پر سنت اللہ قدیم سے مرتبہ موت کے خوف کی وجہ جاری ہے۔جب ابراہیم آگ میں ڈالا گیا تو کیا یہ نظارہ صلیب کے واقعہ سے کم تھا؟ اور جب اس کو حکم ہوا کہ تو اپنے پیارے فرزند کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر تو کیا یہ واقعہ ابراہیم کے