مسیحی انفاس — Page 241
۲۴۱ عیسائی مذہب پر غلبہ پانے کا بجز حضرت مسیح کی طبعی موت ثابت کرنے کے اور صلیبی موت کے خیال کے جھوٹا ثابت کرنے کے اور کوئی طریق نہیں۔سو یہ خدا نے بات پیدا کر دی ہے نہ ہم نے کہ مکمل صفائی سے ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح صلیب سے عیسائی مذہب پر غلبہ جان بچا کر کشمیر میں آگئے تھے اور وہیں فوت ہوئے۔یہ وہ اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے جیسا پانے کا طریق کہ آفتاب کا آسمان پر چمکنا۔تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۲۹ ۲۰۵ بر ہے حضرت محی علیہ السلام میں نے ایک کتاب لکھتی ہے جس میں میں نے کامل تحقیقات کے ساتھ یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ مسیح صلیب پر مر گیا۔اصل یہ ہے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اتار لیا گیا تھا اور وہاں سے بچ کر وہ کشمیر میں چلا آیا۔جہاں اس نے ۱۲۰ برس کی عمر کی صلیب سے نجات پیچ کرو میں وفات پائی اور اب تک اس کی قبر خانیار کے محلہ میں یوز آسف یا شہزادہ نبی کے نام سے اور پھر ہجرت کا جمالی مشہور ہے۔اور یہ بات ایسی نہیں ہے جو محکم اور متحکم ودلائل کی بناء پر نہ ہو بلکہ صلیب کے جو واقعات انجیل میں لکھتے ہیں خود ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔سب سے اول یہ ہے کہ خود مسیح نے اپنی مثال یونس سے دی ہے۔کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوئے تھے یا مر کر۔اور پھر یہ کہ پیلاطوس کی بیوی نے ایک ہولناک خواب دیکھا تھا۔جس کی اطلاع پیلاطوس کو بھی اس نے کر دی اور وہ اس فکر میں ہو گیا کہ اس کو بچایا جاوے اور اسی لئے پیلاطوس نے مختلف پیرایوں میں مسیح کے چھوڑ دینے کی کوشش کی اور آخر کار اپنے ہاتھ دھو کر ثابت کیا کہ میں اس سے بری ہوں۔اور پھر جب یہودی کسی طرح مانے والے نظر نہ آئے تو یہ کوشش کی گئی کہ جمعہ کے دن بعد عصر آپ کو صلیب خاکہ