مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 632

مسیحی انفاس — Page 200

144 فرمودہ باطل نہیں ہو سکتا۔مگر آپ غور سے دیکھیں کہ وہ علامات دین اسلام میں ایسے نمایاں طور پر پائی جاتی ہیں کہ آپ ان کے مقابلہ پر دم بھی تو نہیں مار سکتے۔میں نے انہیں کے لئے آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ آپ اگر بالمقابل کھڑے نہیں ہو سکتے تو ان علامتوں کو قرآن شریف کی تعلیم کے لحاظ سے پر کھو اور آزماد۔پھر اگر وہ واقعی سچی نکلیں تو راست بازوں کی طرح ان کو قبول کر لو۔مگر آپ نے بجز بنسی اور ٹھٹھہ کے اور دیا۔تین لنگڑے لولے وغیرہ میرے سامنے کھڑے کر دیئے کہ ان کو چنگے کرو۔حالانکہ ان کا چنگا کرنا عیسائی ایمان کی علامتوں میں ہے ہے۔ہمارے لئے تو وہ علامتیں ہیں جو قرآن شریف میں آچکی ہیں اور ہمیں کہیں نہیں کہا گیا کہ تم اپنے اقتدار سے علامتیں دکھا سکتے ہو بلکہ یہی کہا گیا کہ خدا تعالیٰ سے درخواست کرو۔پھر جس طرح کا نشان چاہے گاہ کھلائے گا۔تو کیا آپ کی یہ بے فضائی نہیں کہ آپ نے مجھ سے وہ مطالبہ کیا جو آپ سے ہونا چاہئے تھا اور پھر اس کا نام متحرکھ لیا۔میں تو اب بھی حاضر ہوں ان شرائط کے مطابق جو ہماری کتاب ہم پر فرض کرتی ہے اور نیز آپ ان شرائط کے مطابق جو آپ کی کتاب آپ پر فرض کرتی ہے میرے سے نشانوں میں مقابلہ کیجئے پھر حق اور باطل خود بخود کھل جائے گا۔پر ہنسی اور ٹھٹھا کر نار است بازوں کا کام نہیں ہوتا ہے۔میرے پر اسی قدر فرض ہے جو قرآن کریم میرے پر فرض کرتا ہے۔اور آپ پر وہ فرض ہے جو انجیل آپ پر فرض کرتی ہے۔رائی کے دانہ کا مقولہ آپ بار بار پڑہیں اور پھر آپ ہی انصاف کر جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۰۰ ۲۰۱ انسان خدا کی راہ میں پوری وفاداری دکھلا نہیں سکتا اور نہ گناہ سے باز آسکتا ہے جب تک کہ پورے یقین کے ساتھ خدا کی ہستی اور اس کی عظمت اور جلال اس پر ظاہر نہ ہو اور اسلام کے نشانات اور بجز اس سے کوئی کفارہ انسان کو گناہ سے روک نہیں سکتا۔پس گناہ سے محفوظ رہنے اور صدق لور وفاداری اور محبت میں ترقی کرنے کے لئے جس امر کو تلاش کرنا چاہئے وہ محض اسلام میں موجود ہے نہ کسی اور مذہب میں۔اور اس سے میری مراد وہ نشان ہیں جو تازہ بتازہ اسلام میں ہمیشہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا کا وجود جو اس زمانہ میں ایک حل طلب معما کی طرح ہو رہا ہے اور اس کے چمکتے ہوئے جو ہر پر دہریت ستاره ۲۰۰