مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 632

مسیحی انفاس — Page 136

۱۳۶ تعلیم انجیل میں بھی موجود نہیں۔انجیل میں بھی جہاں جہاں تعلیم کا بیان ہے ان تمام مقامات میں تثلیث کی نسبت اشارہ تک نہیں بلکہ خدائے واحد لاشریک کی تعلیم دیتی ہے۔چنانچہ بڑے بڑے معاند پادریوں کو یہ بات ماننی پڑی ہے کہ انجیل میں تثلیث کی تعلیم نہیں۔اب یہ سوال ہو گا کہ عیسائی مذہب میں تثلیث کہاں سے آئی ؟ اس کا جواب تثلیت یونانی عقیدہ سے لی گئی ہے۔محقق عیسائیوں نے یہ دیا ہے کہ یہ تثلیث یونانی عقیدہ سے لی گئی ہے۔یونانی لوگ تین دیوتاؤں کو مانتے تھے جس طرح ہندو ترکے مورتی کے قائل ہیں۔اور جب پولوس نے یہودیوں کی طرف رخ کیا اور چونکہ وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یونانیوں کو عیسائی مذہب میں داخل کرے اس لئے اس نے یونانیوں کے خوش کرنے کے لئے بجائے تین دیوتاوں کے تین اقنوم اس مذہب میں قائم کر دئے۔ورنہ حضرت عیسی کی بلا کو بھی معلوم نہ تھا کہ اقنوم کس چیز کا نام ہے۔ان کی تعلیم خدا تعالیٰ کی نسبت تمام نیتوں کی طرح ایک سادہ تعلیم تھی کہ خدا واحد لاشریک ہے۔پس یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مذہب جو عیسائی مذہب کے نام سے شہرت دیا جاتا تثلیث پولوی مذہب ہے۔میں توحید کی تعلیم ہے۔دراصل پولوسی مذہب ہے نہ مسیحی کیونکہ حضرت مسیح نے کسی جگہ تثلیث کی تعلیم نہ تق دیتے رہے۔نہیں دی اور وہ جب تک زندہ رہے خدائے واحد لا شریک کی تعلیم دیتے رہے اور بعد ان کی وفات کے ان کا بھائی یعقوب بھی جوان کا جانشین تھا اور ایک بزرگ انسان تھاتو حید کی تعلیم دیتا رہا۔اور پولوس نے خواہ مخواہ اس بزرگ سے مخالفت شروع کر دی اور اس کے عقائد صحیحہ کے مختلف تعلیم دینا شروع کیا۔اور انجام کار پولوس اپنے خیالات میں یہاں تک بڑہا کہ ایک نیامذہب قائم کیا۔اور توریت کی پیروی سے اپنی جماعت کو بجلی علیحدہ کر دیا اور تعلیم دی کہ مسیحی مذہب میں مسیح کے کفارہ کے بعد شریعت کی ضرورت نہیں اور خون مسیح گناہوں کے دور کرنے کے لئے کافی ہے۔توریت کی پیروی ضروری نہیں۔اور پھر ایک اور گند اس مذہب میں ڈال دیا کہ ان کے لئے سور کھانا حلال کر دیا۔حالانکہ حضرت مسیح انجیل میں سور کو ناپاک قرار دیتے ہیں۔تبھی تو انجیل میں ان کا قول ہے کہ اپنے موتی سوروں کے آگے مت پھینکو۔پس جب پاک تعلیم کا نام حضرت مسیح نے موتی رکھا تو اس مقابلہ سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ پلید کا نام انہوں نے سوڑ رکھا ہے اصل بات یہ ہے کہ یونانی سور کو کھایا کرتے تھے جیسا کہ آجکل تمام یورپ کے لوگ سٹور کھاتے ہیں۔اس لئے پولوس نے یونانیوں کے تالیف قلوب کے لئے سٹور بھی اپنی