مسیحی انفاس — Page 111
111 کے رحم میں گرے اور پھر وہ نطفہ نہ گرانے والے کی کسی طاقت سے بلکہ ایک اور ذات کی قدرت سے رفتہ رفتہ ایک جاندار مخلوق بن جائے تو وہ شخص جس نے نطفہ گرایا تھا لغت کی رو سے اب یا باپ کے لفظ سے موسوم ہو گا۔اور اب کا لفظ ایک ایسا حقیر اور ذلیل لفظ ہے کہ اس میں کوئی حصہ پرورش یا ارادہ یا محبت کا شرط نہیں۔مثلا ایک بکرہ جو بکری پر جست کر کے نطفہ ڈال دیتا ہے یا ایک سلنڈ بیل جو گائے پر جست کر کے اور اپنی شہوات کا کام پورا کر کے پھر اس سے علیحدہ بھاگ جاتا ہے جس کے یہ خیال میں بھی نہیں ہوتا کہ کوئی بچہ پیدا ہو۔یا ایک سور جس کو شہوات کا نہایت زور ہوتا ہے اور بار بار وه اس کام میں لگا رہتا ہے اور کبھی اس کے خیال میں بھی نہیں ہوتا کہ اس بار بار کے شہوانی جوش سے یہ مطلب ہے کہ بہت سے بچے پیدا ہوں اور خنزیر زادے زمین پر کثرت سے پھیل جائیں اور نہ اس کو فطرتی طور پر یہ یہ شعور دیا گیا ہے۔تاہم اگر بچے پیدا ہو جائیں تو بلاشبہ سور وغیرہ اپنے اپنے بچوں کے باپ کو کے باپ کہلائیں گے۔اب جبکہ اب لفظ یعنی باپ کے لفظ میں دنیا کی تمام لغتوں کی رو سے یہ معنی ہر گز مراد نہیں کہ وہ باپ نطفہ ڈالنے کے بعد پھر بھی نطفہ کے متعلق کار گذاری کرتا رہے تا بچہ پیدا ہو جائے یا ایسے کام کے وقت میں یہ ارادہ بھی اس کے دل میں ہو اور نہ کسی مخلوق کو ایسا اختیار دیا گیا ہے بلکہ باپ کے لفظ میں بچہ پیدا ہونے کا خیال بھی شرط نہیں اور اس کے مفہوم میں اس سے زیادہ کوئی امر ماخوذ نہیں کہ وہ نطفہ ڈال دے بلکہ وہ اسی ایک ہی لحاظ سے جو نطفہ ڈالتا ہے لغت کی رو سے اب یعنی باپ کہلاتا ہے تو کیونکر جائز ہو کہ ایسانا کارہ لفظ جس کو تمام زبانوں کا اتفاق ناکارہ ٹھہراتا ہے اس قادرِ مطلق پر بولا جائے جس کے تمام کام کامل ارادوں اور کامل علم اور قدرت کاملہ سے ظہور میں آتے ہیں اور کیونکر درست ہو کہ وہی ایک لفظ جو بکر اپر بولا گیا۔بیل پر بولا گیا۔سٹور پر بولا گیا۔وہ خدا تعالیٰ پر بھی بولا جائے۔یہ کیسی بے ادبی ہے جس سے نادان عیسائی باز نہیں آتے نہ ان کو شرم باقی رہی نہ حیاباتی رہی نہ انسانیت کی سمجھ باقی رہی۔کفارہ کا مسئلہ کچھ ایسا ان کی انسانی قوتوں پر فالج کی طرح گرا کہ بالکل نکما اور بے حس کر دیا۔اب اس قوم کے کفارہ کے بھروسہ پر یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ اچھا چال چلن بھی ان کے نزدیک بیہودہ ہے۔حال میں یعنی ۲۱ جون ۱۸۹۵ء کو پرچہ نور افشاں لدھیانہ میں جو عیسائی مذہب کا ایک اصول کفارہ کی نسبت چھپا ہے وہ ایسا خطرناک ہے جو جرائم پیشہ لوگوں کو بہت ہی مدد دیتا ہے۔اس کا ماحصل یہی ہے کہ ایک