مسیحی انفاس — Page 109
1+9 پنے افتراء راء اور اختراع میں ان سے اچھتے رہے۔کیونکہ انہوں نے بدھ کو خدا ٹھہرا بدھ مت والے اپنے کر پھر ہر گز اس کے لئے یہ تجویز نہیں کیا کہ اس نے پلیدی اور ناپاکی کی راہ سے تولد پایا افتراء اور اختراع میں ان سے اچھے رہے۔تھا۔یا کسی قسم کی نجاست کھائی تھی۔بلکہ ان کا بدھ کی نسبت یہ اعتقاد ہے کہ وہ منہ کے راستہ سے پیدا ہوا تھا۔پر افسوس کہ عیسائیوں نے بہت سی جعل سازیاں تو کیں مگر یہ جعلسازی نہ سوجھی کہ میسیج کو بھی منہ کے راستہ سے پیدا کرتے اور اپنے خدا کو پیشاب اور پلیدی سے بچاتے۔اور نہ یہ سوجھی کہ موت جو حقیقت الوہیت سے بجلی منافی ہے اس پر وارد نہ کرتے۔اور نہ یہ خیال آیا کہ جہاں مریم کے بیٹے نے انجیلوں میں اقرار کیا ہے کہ میں نہ نیک ہوں اور نہ دانا مطلق ہوں نہ خود بخود آیا ہوں نہ عالم الغیب ہوں نہ قادر ہوں نہ دعا کی قبولیت میرے ہاتھ میں ہے۔میں صرف ایک عاجز بندہ اور مسکین آدم زاد ہوں کہ جو ایک مالک رب العالمین کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ان سب مقاموں کو انجیل سے نکال دینا چاہئے۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو عظیم الشان صداقت الحمدللہ کے مضمون میں ہے۔وہ بجز پاک اور مقدس مذہب اسلام کے کسی دوسرے مذہب میں ہر گز پائی نہیں جاتی۔براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۴۲، ۴۴۳ - بقیه حاشیه ۱۱ انجیل میں غور کرنے سے صریح اور صاف طور سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ۹۵ جابجا اپنی کمزوریوں کا اعتراف کیا اور استغفار بھی کیا۔اچھا بھلا ایلی ایلی لما الی اپنی کر کے کیوں نہ سبقتانی سے کیا مطلب؟ ابی ابی کر کے کیوں نہ پکارا ؟ عبرانی میں پڑا؟ امیل خدا کو کہتے ہیں۔اس کے یہی معنے ہیں کہ رحم کر اور فضل کر اور مجھے ایسی بے سرو سامانی میں نہ چھوڑ ( یعنی میری حفاظت کر ) ملفوظات۔جلد ۱۰ صفحه ۳۳۸ 44 اب ہم نہایت افسوس سے لکھتے ہیں کہ ایک نا سمجھ انگریز عیسائی نے اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ اسلام پر عیسائی مذہب کو یہ فضیلت ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ کا نام باپ بھی کی آیا ہے اور یہ نام نہایت پیارا اور دلکش ہے اور قرآن میں یہ نام نہیں آیا۔مگر ہمیں تعجب حقیقت ہے کہ اس معترض نے اس تحریر کے وقت پر یہ خیال نہیں کیا کہ لغت نے کہاں تک اس