مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xi of 632

مسیحی انفاس — Page xi

دیباچه از قلم تکریم و محرم ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ) و سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ ریو آخری زمانہ میں مذاہب عالم ایک موعود کے منتظر تھے۔حضرت عیسی علیہ السّلام نے اپنے دوبارہ آنے کی خبر دی تھی اور حضرت سید الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت میں سے ایک ایسے وجود کی آمد کی پیش گوئی کی تھی کہ جس نے صفات مسیحیت و مہدویت کا جامع ہونا تھا۔اسی لئے آپ نے اسے عیسی ابن مریم اور مہدی کے نام سے سرفراز فرمایا۔پیش گوئیوں کے مطابق اس موعود کے دور میں اسلام کو تمام مذاہب پر دلائل وبراہین اور زندہ نشانوں کے لحاظ سے غلبہ نصیب ہوتا تھا۔اسلام کے اس غلبہ کا کسی مذہب یا کسی عقیدہ کو زیر کرنا مقصد نہیں تھا بلکہ ہر مذہب کو ایک ایسے نقطہ وحدت پر جمع کرنا تھا جو ہر مذہب کی اصل غرض و غایت تھی تاخد اتعالیٰ کی توحید زمین پر بھی اسی طرح قائم ہو جائے جس طرح آسمانوں پر قائم ہے اور اقوام عالم توحید باری تعالیٰ کے مرکزی نقطہ پر جمع ہو کر قوم واحد بن جائے۔ایک ہی خدا ہو اور ایک ہی دین۔قیام توحید کے لئے سب سے بڑی اور اہم مہم وہ ہے جس کا قرآن کریم نے ان الفاظ میں ذکر کیا ہے کہ وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَنَا لَقَدْ جنتُمْ شَيْئًا إِذَا هُ نَكَادُ السَّمَوَاتُ يَنْفَطَرْنَ مِنْهُ وتنشق الأَرْضُ وَتَخِرُ الْمَالُ هَذا ما أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا برم سر وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا له إِن كُلُّ مَن فِي ١٤ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا له سورة مرية ترجمہ : اور یہ (لوگ) کہتے ہیں کہ (خدائے ) رحمان نے بیٹا بنالیا ہے۔(تو کہہ دے) تم ایک بڑی سخت بات کہہ رہے ہو۔قریب ہے کہ (تمہاری بات سے ) آسمان پھٹ کر گر جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر