مسیح اور مہدیؑ — Page 604
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں تاریخ طبری جلد دوم : حصہ اول 604 عکس حوالہ نمبر: 211 FYA چھوٹے مدعیان نبوت کی پیشگوئی کا پورا ہونا سیرت النبی موت + اسلام کی اشاعت اور جھوٹے نبیوں کو چھوٹی نبوت سند لکھ دی یہ آپ سے رخصت ہو کر اپنی قوم کے پاس جانے کے لیے روانہ ہوئے۔آپ نے فرمایا اگر زید مدینہ کے قلال بخار سے بچ گئے تو بھی وہ نہ بیچے۔چنانچہ جب وہ نجد کے علاقے میں پہنچے وہاں کے ایک چشمہ آب فروہ نامی پر آئے ان کو بخار آیا اور اسی سے وہ مر گئے ان کے مرنے کے بعد ان کی بیوی نے رسول اللہ کا ایم کے وہ فرمان جو آپ نے جاگیر کے سے زید الخیر کو لکھ دیے تھے تلاش کر کے لے لیے اور ان کو آگ میں جلا دیا۔مسیلمہ کذاب کا خط : اس سیال مسیلمہ نے رسول اللہ سلم کو لکھا کہ میں آپ کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہوں۔عبداللہ بن ابی بکر سے مروی ہے کہ مسلمہ بن حبیب الکذاب نے رسول اللہ کریم کو لکھنا یہ خط مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کی ایل کولکھا جاتا ہے۔سلام علیک، مجھے آپ کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہے۔ہمارے لیے آدمی سرزمین اور قریش کے لیے آدھی نگر قریش حد سے بڑھنے والی قوم ہے۔دو شخص اس خط کو لے کر آپ کے پاس آئے۔نعیم سے مروی ہے کہ خط کو پڑھ کر رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں قاصدوں سے پوچھا تم کیا کہتے ہو۔انہوں نے کہا ہمارا بھی وہی خیال ہے جو مسیلمہ نے لکھا ہے۔آپ نے فرمایا اگر قاصدوں کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔پھر آپ نے مسلمہ کو اس کے خط کے جواب میں لکھا۔بسم اللہ الرحن الرحیم۔یہ خط محمد رسول اللہ سلم کی طرف سے مسیلمہ الکذاب کے نام لکھا جاتا ہے۔سلام ہو اس پر جس نے راور است کی اتباع کی۔اما بعد! قال الارض لِلَّهِ يُوْرِثُهَا مَنْ يُشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَ الْعَاقِبَةُ لِلمُ تُقِينَ (زمین اللہ کی ہے اپنے بندوں میں سے جسے وہ چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور بے شک آخرت اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہے ) یہ آخرہ انجری کا واقعہ ہے۔ابو جعفر کہتے ہیں کہ یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ مسلیمہ الکذاب اور دوسرے مدعیان نبوت نے رسول اللہ کی لعلیم کی حجتہ الوداع سے واپسی اور مرض الموت میں علیل ہونے کے بعد اپنی نبوت کا اعلان اور دعویٰ کیا تھا۔رسول اللہ کی تعلیم کے مولی ابو مو ببینہ سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے بعد جب رسول اللہ ﷺ مدینہ واپس آئے اور مسافروں کے ذریعہ تمام عرب میں آپ کی علالت کی خبر مشہور ہو گئی۔اسود نے یمن میں اور مسلیمہ نے یمامہ میں نبوت کا دعوی کیا۔ان دونوں کی اطلاع آپ کو ٹل گئی۔آپ کے مرض سے افاقے کے بعد طلحہ نے بنو اسد کے علاقے میں اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اس کے بعد آپ محرم میں پھر اس مرض میں بیمار پڑ گئے جس سے آپ کی وفات ہوئی۔عاملوں کا تقرر : اس سال رسول اللہ ﷺ نے ان تمام علاقوں میں جہاں اسلام پھیل گیا تھا اپنے عامل صدقات مقرر کر کے بھیج دیے۔عبد اللہ بن ابی بکر سے مروی ہے کہ تمام ان شہروں پر جو اسلام کے زیر نگیں آگئے تھے رسول اللہ ﷺ نے اپنے امیر اور عامل صدقات مقرر کیے۔مہاجر بن ابی امیہ بن المثیر و کو آپ نے صنعاء بھیجا عنسی نے جو وہاں تھا مہاجر کے خلاف خروج کیا۔آپ نے بنو بیافتہ کے زیاد بن لبید الانصاری کو حضر موت کے صدقات کا عامل مقرر کیا۔عدی بن حاتم کو طے اور اسد کا عامل صدقات مقرر فرمایا مالک بن نویرہ کو بنو حنظلہ کا عامل صدقات مقرر فرمایا۔۔بنو سعد کے صدقات کی وصولیابی انہی کے دو شخصوں کے تفویض کی۔علاء بن الحضر می کو آپ نے بحرین کا عامل مقرر کر کے بھیجا اور علی بن ابی طالب کو نجران بھیجا تا کہ یہ وہاں کے صدقات اور تجزیے کو وصول کریں۔