مسیح اور مہدیؑ — Page 598
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 210_الف تغییر در منشور جلد پنجم 598 عکس حوالہ نمبر : 208 578 چھوٹے مدعیان نبوت کی پیشگوئی کا پورا ہونا الاحزاب امام احمد، امام بخاری ، امام مسلم، امام نسائی اور ابن مردویہ رحمہم اللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ علی ایم نے فرمایا: میری اور مجھ سے قبل انبیاء کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو گھر بنائے ، اسے خوبصورت بنائے مگر اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں اینٹ کی جگہ چھوڑ دے۔لوگ اس کے ارد گرد چکر لگا ئیں۔اسے دیکھ کر خوش ہوں اور کہیں یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی؟ میں وہ اینٹ ہوں۔میں خاتم النبین ہوں۔(1) امام احمد اور امام ترمذی رحمہا اللہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم میں ہی ہم سے روایت کرتے ہیں جبکہ امام ترندی رحمہ اللہ نے اس صحیح قرار دیا ہے کہ انبیاء میں میری شمال اس آدمی جیسی ہے جوگھر بنائے ، اسے حسین و جمیل ومکمل کرے اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دے، وہ اینٹ اس جگہ نہ رکھے۔لوگ اس عمارت کے ارد گرد چکر لگانے لگیں اور اس سے خوش ہوں اور کہیں کاش ! اس اینٹ کی جگہ بھی مکمل ہوتی۔میں انبیا ء میں اس اینٹ کی جگہ ہوں۔(2) امام ابن مردویہ نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ لی ایم نے فرمایا: میری امت میں تیں کذاب ہوں گے۔جن میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے جبکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔امام احمد رحمہ اللہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم ملی تم سے روایت کرتے ہیں، فرمایا: میر کی امت میں ستائیس دجال وکذال ہوں گے ، ان میں سے چار عورتیں ہوں گی۔میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(3) امام ابن ابی شیبہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ کہ خاتم انہین یہ نہ کہو لا نبي بعده (4) امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے امام احمدرحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس یہ کہا صَلَّى اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ حَالَمِ الأنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جب تو نے خاتم الانبیاء کہ دیا تو تیرے لیے یہ کافی ہے کیونکہ ہم با تیمی کیا کرتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لانے والے ہیں۔اگر وہ تشریف لا ئیں تو ایک اعتبار سے پہلے اور ایک اعتبار سے بعد میں ہوئے۔(5) امام ابن انباری رحمہ اللہ نے مصاحف میں حضرت ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے: میں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہا کو پڑھایا کرتا تھا کہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔آپ نے مجھے فرمایا انہیں خاتم النبیین نام کے فتح کے ساتھ ) پڑھا۔اللہ تعالی توفیق دینے والا ہے۔تا ) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيران اے ایمان والو! یاد کرو اللہ تعالیٰ کو کثرت سے"۔1- مسند امام احمد ، جلد 2 صفحہ 312، دار صادر بیروت -2 سنن ترمذی مع عارضة الأحوذي، جلد 13 صفحہ 89(3613)، دارالکتب العلمیہ بیروت 3 مسند امام احمد ، جلد 5 صفحہ 396، دار صادر میرات 4 - مصنف ابن ابی شیبہ، باب لاني بعد النبی سل السلام، جلد 5 صفحہ 336(26653)، مکتبة الزمان مدینه منوره 5 - الينا، جلد 5 صفحہ 337 (26654)