مسیح اور مہدیؑ — Page 594
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں سفن ابی داؤد، جلد سوم 594 عکس حوالہ نمبر : 206 239 چھوٹے مدعیانِ نبوت کی پیشگوئی کا پورا ہونا ضیاء القرآن پبلی کیشنز کامیاب نہ ہو سکیں گے ) یہاں تک کہ یہ آپس میں بعض بعض کو ہلاک کریں گے اور ان میں سے بعض بعض کو قیدی بنا ئیں گے۔البتہ مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے ائمہ کا خوف ہے (کہ وہ اپنی غلط دعوت کے سبب اسے صراط تنظیم سے بھٹکا دیں گے جیسا کہ فتنہ خلق قرآن، معتزلی نظریات اور انہی کی طرح کی دیگر تحریکیں۔واللہ اعلم) اور جب میری امت میں تلوار چلا دی جائے گی تو پھر یوم قیامت تک ان سے اٹھائی نہیں جاے گی (یعنی قتل و غارت گری ہمیشہ ہوتی رہے گی ) اور قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے جاملیں گے اور یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبائل بتوں کی پوجا کرنے لگیں گے اور عنقریب میری امت میں تیس کذاب ظاہر ہوں گے، ان میں سے ہر کوئی یہ گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا۔ابن عمیسی نے کہا: وہی گروہ (دلائل کے ساتھ ) غالب رہے گا اور جس نے بھی ان سے اختلاف کیا وہ انہیں کوئی نقصان اور ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے ( اور ہر ایک کی موت واقع ہو جائے ) واللہ اعلم۔3711- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ الطَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنِي أَن قَالَ ابْنُ عَوْفٍ وَقَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَعِيلَ قَالَ حَدَّثَنِي ضَمُضَمْ عَنْ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي مَالِكِ يَعْنِي الْأَشْعَرِى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ أَجَارَكُمْ مِنْ ثَلَاثِ خِلَالِ أَنْ لَا يَدْعُو عَلَيْكُمْ نَبِيِّكُمْ فَتَهْلَكُوا جَمِيعًا وَ أَنْ لَا يَظْهَرَ أَهْلُ الْبَاطِلِ عَلَى أَهْلِ الْحَقِّ وَأَنْ لَا تَجْتَمِعُوا عَلَى ضَلَالَةٍ حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ مہ اللہ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں تین خصلتوں سے امان عطا فرمائی ہے: یہ کہ تمہارا نبی تمہارے خلاف دعا کرے اور پھر تم تمام کے تمام ہلاک ہو جاؤ ، ( ایسا نہ ہو گا ) یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غالب آجائیں اور یہ کہ تم گمراہی اور ضلالت پر جمع نہ ہو گے۔(یعنی اللہ تعالیٰ نے ان تینوں سے اس امت کو محفوظ رکھا ہے کہ نہ تو اہل باطل اہل حق پر غالب آ سکتے ہیں اور نہ ہی یہ امت گمراہی پر اتفاق کر سکتی ہے )۔37121 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِ في حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ الْعَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ قَالَ تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ لِخَمْسِ وَثَلَاثِينَ أَوْ سِبْ وَثَلاثِينَ أَو سَبْع وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلَكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا قَالَ قُلْتُ أَمِنَا بَقِيَ أَوْ مِمَّا مَضَى قَالَ مِمَّا مَضَى قَالَ أَبُو دَاوُد مَنْ قَالَ خِرَاشٍ فَقَدْ أَخْطَا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس یا سینتیس برس گھومتی رہے گی۔پس اگر وہ ہلاک ہو گئے تو یہ راستہ انہی کا ہوگا جو پہلے لوگوں میں سے ہلاک ہو گئے اور اگر ان کا دین ان کے لیے قائم ہو گیا تو وہ ان کے لیے ستر برس تک قائم ہو جائے گا۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے عرض کی : کیا یہ اس زمانے میں سے ہے جو باقی ہے یا اس میں سے جو گزر چکا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں سے جو گزر چکا ہے۔1- قال ابو داؤد المصرف مطبوعہ بیروت میں ہے۔