مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 585 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 585

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 585 عکس حوالہ نمبر : 204 آخری نبی اور آخری مسجد سے مراد کریں بلکہ اس تازہ کر انکار میں تو کتری ال لا لا لا لا ل ل له ولم کا بھی شکانی بافار میں کچھ اندیشہ ہی نہیں بلکہ سات زمینوں کی جگہ اگر لاکھ دو لاکھ اوپر نیچے اسی طرح اور زمینیں قسیم کر لیں تو میں زمہ کش ہوں کہ انکار سے زیادہ اس اقرار میں کچھ وقت نہ ہوگی۔ہرکسی آیت کا تعاریش ، نہ کسی حدیث سے معارتیہ رہا اثر معلوم اس میں سات سے زیادہ کی نفی نہیں سو جب انگار ائمہ مذکور میں باوجود تصیح آنکه حدیث یہ جرات ہے تو احرار ایرانی زائد: از مبلع میں تو کچھ ڈر ہی نہیں۔علاوہ بریں ہر تقدیر خاتمیت زمانی انکار اثر مذکور میں قدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں کی افزائش نہیں۔ظاہر ہے کہ اگر ایک شہر آباد ہو اور اس کا ایک شخص ساکھ ہو یا سب میں افضال تو بعد اس کے کہ اس شہر کے برابر دوسرا ویسا ہی شہر آباد کیا نیائے اور اس میں میں ایسا ہی ایک حاکمہ ہو یا سب میں افضل ، تو اس شہر کی آبادی اور اس کے مالکہ کی حکومت یا اس کے فربہ افضل کی افتیدریت سے حاکم یا افضل شہر اول کی حکومت با التسلیت میں کچھ کمی نہ آجائے گی اور اگر در صورت تسلیم اور منہ زمینوں کے وہاں کے آرم ونوت وغیرہ میہم السلام یہاں کے آدم و نوح علیہم السلام و غیر هست زمانہ سب ان میں بون تر با وجود مانمت ملتی بھی آپ کی خاتمیت زمانی انکار نہ ہوسکے گا۔جو وہاں کے بھی صلی الانابیہ وسلم کے ساوات میں کچھ مثبت کیجئے۔ہاں اگر تا تمیت مون انتصاف ذاتی بر سنت جنور کی افضلیت سب بنیا ہے۔نبوت کیجئے، جیسا اس تہمدان نے عرض کیا ره حضرت نانوتوی فرماتے ہیں کریم مختار اور پسندیہ منی تری ہے کہ آیہ ختم النبین میں نام کا انعام کیا جائے کوئی آپ کے مرتبہ کا نہیں اور نہ ہی آپے بعد کوئی نبی ہوگا اور آپ ہی نبوت ہر جگہ ہے اس مین سے مراد لینے سے تین قسم کی ختم نبوت مانی میکانی اور ریتی اسی آیت ثابت ہوجائیں۔اگر آئین میں ان معنی مراد لیا جا تو ختم نبوت مربی مراد لیا ہی بہتر ہے کو نہ ختم نبوت زمان سے آپکی فضیلت ثابت نہیں ہوتی اورا صورت میں یہ امکان باقی رہتاہے کہ آپکے ہم مرتب کی ہی ہیں فرق صرف اتنا سب آپ کے بعد تشریف لائے ہیں محض سیکھے اور اسے آخر آنے۔آپ کی شان کا نیا پن ظاہر نہیں ہوتا۔پس اس صورت میں آیتہ کا ہی یہ ہوگا کہ آپ تمام نبیوں سے مرتبہ کے لحاظ سے بلند ہیں اور کوئی آپ ا مثل اور ہم مرتبہ نہیں۔۱۲