مسیح اور مہدیؑ — Page 559
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 559 عکس حوالہ نمبر: 194 ظہور مسیح و مہدی اور غلبہ دین حق فتوں اور قیامت کی نشانیاں کا بیان قرنا الشَّيْطَانِ (( وَأَنتُمْ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رقابت کی گردن مارتے ہو ( حالا نکہ مومن کا قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے ) اور بعض وإنما قتل موسى الذي قتل من الي حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو فرعون کی قوم کا ایک شخص مارا تھا فرعون خطأ فقال الله عَزَّ وَجَل لَهُ وقت وہ خطا سے مارا تھا (اند به نیست قتل کیونکہ گھونے سے آدمی نہیں نفْسًا منحيناك من الغم وفتاك فنونا قال أحمد مرتا) اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو نے ایک خون کیا پھر ہم نے تجھے من عُمر فِي رِوَانِهِ عَنْ سَالِمٍ لَمْ يَقُل سَمِعت كونجات دی غم سے اور تجھ کو آزمایا جیسا آزمایا تھا۔بَابِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعبد دَوْسٌ ذَا :باب قیامت سے قبل دوس کی عورتوں کا ذ والخلصہ کی عبادت کرنے کا بیان الخلصة زمانہ میں تالہ میں پوجا کرتے۔۷۲۹۸ عن أبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ ۷۲۹۸ - ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ عَنْ قالَ رَسُولُ اللهِ صَلّي الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ )) ﷺ نے فرمایا کہ قیامت نہ قائم ہو گی یہاں تک کہ دوس کی تقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تضطرب آليات بساء عورتوں کے سرین ہیں کے ذمی الخلصہ کے گرد ( یعنی وہ طواف دَوْسِ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ (( وَكَانت منعا کریں گی اس کا) ذوالخلصہ ایک بت تھا جس کو روس جاہلیت کے تعبدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلية بالة۔٧٢٩٩ - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله عَنْهَا قَالت ۷۲۹۹ - ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے میں نے سنا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ ) لَا يَذْهَبُ رسول اللہ سے فرمایا رات اور دن ختم نہ ہوں گے جب تک لات اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتى تُعْبَدَ النَّاتُ وَالْعُزَّى (( اور عربی ( یہ دونوں بہت تھے جاہلیت کے) پھر نہ پوجے جائیں فقلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِن كُنت اظن حین گے۔میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں تو سمجھتی تھی جب اللہ تعالی أنزل الله هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى نے یہ آیت اتاری اللہ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّين كله ولو كرة سچا دین دے کر بھیجا تا کہ اس کو غالب کرے سب دینوں پر اگرچہ الْمُشْرِكُونَ أَن ذَلِكَ تَامَّا قَالَ إِنَّهُ سَيَكُون براما ئیں مشرک لوگ کہ یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے (اور سوا من ذلكَ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ يَبْعَثُ الله رینا اسلام کے اور کوئی دین دنیا میں غالب نہ رہے گا)۔آپ نے فرمایا طيبة فتوفي كُلِّ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ ایسا ہو گا جب تک اللہ تعالٰی کو منظور ہے پھر اللہ تعالٰی ایک پاکیزہ ہوا خَرْدَل مِنْ إِيْمَانِ فَيَبْقَى مَنْ لَا خَيْرَ فِیه بھیجے گا جس کی وجہ سے ہر مومن سر جاوے گا اور وہ لوگ باقی رہ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِينِ آبَائِهِمْ ))۔جاویں گے جن میں بھلائی نہیں ہے۔پھر وہ لوگ اپنے (مشرک) (۷۲۹۸) معلوم ہوا کہ عرب کے بعض لوگ پھر مشرک ہو جائیں گے۔دوسری حدیث میں ہے کہ میری امت کے بعض تھیلے بتوں کو پوجنے لگیں گے۔