مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 551 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 551

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 551 عکس حوالہ نمبر: 192 مسیح موعود کے حج کی پیشگوئی کا مطلب مینه بخاری جام ۴۲۹ پاروس کتاب بڑا الخلق ا شبه من رايت بابي قطن وافعا یکا یہ معنی ان سب میں عبدالعزی بن قطن کے بہت مشابہ ( جو جاہلیت کے زمانہ كى رَجُل يطوف بالبيت فقلت مرغذا میں مر گیا تھا اور اپنے دونوں ہاتھ ایک شخص کے سونڈھوں پر رکھے کیسے قالوا المسيح الدجال تابعہ عبد الله عن کا طواف کر رہا ہے میں نے پوچھا یہ کون ہے کسی نے کہا مسیح دجال ہی ہے موسیٰ ابن عقبہ کے ساتھ اس حدیث کو عبید اللہ نے بھی نافع سے روایت کرنا صلى ٦٦١ - حدفنا احمد بن محمي المك قال ہم سے احمدی محمد کی نے بیان کیا کہا میں نے ابراھیم بن سعدر کنا تمعت إبراهيم بن سعد، قال حدثني الزر کہا مجھ سے زہری نے بیان کیا انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے باپ سالم عن أبيه قال لا والله ما قال الله (عبداللہ بن عمر سے انہوں نے کہا اسم خدا کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الله عليه و لم يعش احمر ولكن نے حضرت علی کو یہ نہیں کہا کہ وہ شرخ رنگ تھے ہے لیکن یوں فرمایا میں خواب کہے یوں ما ان يما انا نابر اعرف باللعبة فاذا میں کیسے کا طواف کر رہاتھا کیا دیکھتا ہوں ایک شخص گندم گون میرے بال رجل ادم سبط الشعر بادی بين رجلين والله دو آدمیوں پر ٹیکا دیئے جا رہا ہے اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے يَنصُفُ رَاسة ماء العراق راسه ماؤ یا بہ رہا ہے میں نے پوچھا یہ کون ہے لوگوں نے کہا مریم کے بیٹے ڈھیٹی) تقلد من هذا قالوا ابن کر یہ فذهبت میں پھر میں نے نگاہ پھرائی تو ایک شخص شرخ رنگ موٹا گھونگر بال دالانی التفت يا دار جل احمد الجسم بعد الرائی آنکھ کا کانا اس کی آنکھ جیسے پھول انگور نظر آیا میں نے پوچھا یہ کون ہے امور من اليمن كان عيسة فنية حانية قلت لوگوں نے کہا یہ دجال ہے اور لوگوں میں زعبد العزی بن قطن اس کے من هذا تأثر هذ الدجال را حرب الراس پہ بہت مشابہ تھا میری نے کہا شیخ خزاعہ تھیلے میں سے تھا جو جاہلیت کے تبها ابن قطب قاله التهرِيُّ رَجُلٌ مِّن خُنَ الله زمانہ میں مرگیا تھا۔نا ثنا ابو اليما أخبرنا شعيب عن ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہ ہم کوشید نے خبر دی انھوں نے نہ سرجی الزهري قال أخبرني أبو سلمة أن أبا هريرة کیا مجھ کو ابوسلمہ نے خبر دی کہ بعد ہر یہ ہن نے کہا میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ قال سمعت رسول اللہ صلی الله عليه اسم تقول وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے میں سب لوگوں سے زیادہ مریم کے بیٹے رَسُواْ اللّهِ أنا أولى النا من يانين قرية والانبہ سے تعلق رکھتا ہوں کہ پیغمبر سب گویا علاتی بھائی ہیں رباپ ایک ے اس کو امام سلم نے وصل کیا اہستہ سے اور ہر یہ ہو نے ان روایت کیا ہے کہ وہ شرع رنگ تھے شاید این مرنے اس کو دہم پر کیوں کیا بیتی ابو ہریرہ سے غلطی ہوئی اور دونوں میں مطابقت بھی مکن ہے کہ ایکبار گندم گون رکھا ہو ایک بار سرخ رنگ اور کھلا گند می ذرے کی محنت یا فیتے میں سرخی مائل ہو جاتا ہے انسان بر رایت میں حضرت مینی کی نسبت جعد آیا ہے تو اس کے معنی گھونگر بان والے نہیں ہیں منہ یہ حدیث اس کے مخالفت برگی سی سی نے اے سی سی سی میں ہے نہ ہی کیا در طاقت ہیں طرح بھی ہو سکتی ہے کہ خفیف گھونگر بال کالے تیل ڈالنے یا پانی سے بھگونے یا کنگھی کر جیسے ہوے ہو جاتے ہیں کا منہ سے آپ میں شیر روی غیر اپنے اور انکے بیچ میں سر کوئی پیغمبر نہیں ہوا خود حضرت مینی نے انہیں میں آپکی بشارت دی کہ میر بعد تسلی دینے والا آئیگا اور وہ تم کو بہت سی باتیں بتلائے گا جو میں نے نہیں بتلائیں کیونکہ وہ بھی ان میں علم حاصل کر یگا جہاں میں حاصل کرتا ہوں ایک نہیں میں ان آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کا نام مذکر ہے میں نصاری نے اسکو چھپا رہا ہے اس شرارتی کوئی ٹھکانا ہے کہتے ہیں فارقلیط کا معنی بھی سراہا ہوا یعنی مم اش مالی و کم است