مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 548 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 548

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں فتاوی حدیثه 548 عکس حوالہ نمبر :191 515 مسیح موعود کے حج کی پیشگوئی کا مطلب مکتبہ اعلیٰ حضرت كُنتُ أطوف مَعَ النبي الله حَوْلَ الْكَعْبَةِ إِذْ رَأَيْتُهُ صَافَحَ شَيْئًا وَ لَمْ آرَهُ فَقُلْنَا يَارَسُوْلَ اللهِ رَأَيْنَاكَ صَافَحُتَ شَيْئًا وَلا تَرَاهُ قَالَ ذَالِكَ أَخِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ انتَظَرتُهُ حَتَّى قَضَى طَوَافَهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ۔تاریخ دمشق لابن عسا کر بیٹی بن اٹھی الیکسی ، ج: 47 م: 492، مطبوعہ: ایکا) ترجمہ: میں نبی اکرم مسلم کی معیت میں کعبہ معظمہ کے گرد طواف کر رہا تھا تو اچانک میں نے دیکھا کہ آپ م نے کسی چیز کے ساتھ مصافحہ فرمایا لیکن میں اس چیز کو نہ دیکھ سکا ہم نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ! ہم نے آپ کو کسی چیز کے ساتھ مصافحہ فرماتے دیکھا لیکن ہم نے اس کو نہیں دیکھا تو آپ میں ہم نے فرمایا وہ میرے بھائی حضرت عیسی بن مریم النظر تھے میں ان کا انتظار کرتا رہا حتی کہ انہوں نے اپنا طواف مکمل کر لیا تو میں نے ان کو سلام کیا۔لہذا جب حضرت عیسی العلم کی حضور می بینیم سے ملاقات ہوتی رہی ہے تو اس حالت میں حضرت عیسی القلب کے لئے آپ مٹی ایم سے آپ کی شریعت کے وہ احکام جو شریعت انجیل کے مخالف ہیں ان کو حاصل کرنے میں کوئی امر مانع نہیں۔کیونکہ حضرت عیسی اللہ کو علم تھا کہ عنقریب ان کا دنیا میں نزول ہوگا اور ان کو ان احکام کی ضرورت پڑے گی۔لہذا انہوں نے وہ احکام حضور ملی یہ کم سے براہ راست اور بلا واسطہ حاصل کئے ہیں۔ابن عساکر رحمہ اللہ کی ایک حدیث میں ہے: الا إِنَّ ابْنَ مَرْيَمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٍّ وَلا رَسُولٌ إِلَّا أَنَّهُ خَلِيْفَتِي فِي أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي۔ترجمه: خبر دار با حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام اور میرے درمیان نہ کوئی نہی ہوا ہے اور نہ کوئی رسول - خبر دار عیسی بن مریم میری امت میں میرے بعد میرے خلیفہ ہیں۔( الحاوي الفتاوی، کتاب الاعلام بحکم الخ ، ج 2 ص : 197 مطبوعہ ایطا ) حضرت عیسی اعلی حضور ملی ایام کے روضہ اقدس سے احکام حاصل کریں گے۔السلام علامہ مکی رحمہ اللہ نے تصریح فرمائی ہے کہ حضرت عیسی ال ہماری شریعت کے مطابق قرآن وسنت سے احکام صادر کریں گے۔یا تو حضرت عیسی الی اپنے نزول کے بعد ہماری شریعت کے احکام بلا واسطہ اور بالمشافہ ہمارے نبی کریم مٹی ہم سے آپ کے روضہ انور میں موجودگی سے حاصل کریں گے اور اس کی تائید ابو یعلی کی یہ حدیث کر رہی ہے کہ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِي لَيْنَزَلَنْ عِيْسَ بْنَ مَرْيَمَ ثُمَّ قَامَ عَلَى قَبْرِى وَقَالَ يَا مُحَمَّدٌ لَا جِيِّيَنَّهُ۔