مسیح اور مہدیؑ — Page 544
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 544 عکس حوالہ نمبر :189 مسیح موعود کے حج کی پیشگوئی کا مطلب نچ کے مسائل ٣٠٣٠ عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِي قَالَ حالة الأسلمي فان سبعت ۳۰۳۰- نقظہ جو قبیلہ بنی اسلم سے ہیں انھوں نے ابو ہریرہ رضی آبا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النبي الله عنہ سے ناکہ نبی فرماتے تھے کہ قسم ہے اس پر ور دگار کی کہ الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ) والذي نفسي میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ بلاشک و شبہ عینی فرزند بيده ليُهِنَّ ابْنُ مريمَ فَحُ الرَّوْحَاءِ حَاجًا أو مریم کے روحاء کی گھائی میں جو مکہ اور مدینہ کے بیچ میں سے لبیک مُعْتَمِرًا أَوْ لَيْنيْنَهُمَا ))۔پکاریں گے حج کی یا عمرہ کی یا قران کریں گے اور دونوں کی لبیک پکاریں گے ایک ہی ساتھ۔٣٠٣١ - عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مثله ۳۰۳۱ - وہی مضمون ہے۔قَالَ « وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ))۔٣٠٣٢ - عن أبن شِهَابٍ عَنْ حنظلة بن علي ۳۰۳۲ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث اسی طرح مردی عَنْ الْأَسْلَمِي أَنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه ہے ؟ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَالَّذِي نَفْسي يَدِهِ بِمِثْلِ حَدِيثهما۔بَابِ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرَ النَّبِيِّ ﷺ باب : نبجیا کے عمروں اور ان کے اوقات کا وَزَمَانِهِنَّ بیان ٣٠٣٣ - عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنا رَضي الله عنه ۳۰۳۳- قتادہ نے انس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول أَخْبَرَهُ أَنَّ الله أخبره أن رسول الله امر اربع عُمر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور سب ذی قعدہ میں اللہ كلهنَّ في ذي القعدة إلا التي مع خبيه عُمرہ کیے مگر جو حج کے ساتھ کیا کہ ایک عمرہ حدیبیہ ذی قعدہ میں مِنَ الْحُدَيةِ أَوْ زَمَنَ الْحُدَيم فِي ذِي الْقَعْدَةِ دوسرا اس کے بعد کے سال میں ولی قعدہ میں تیسرا عمرہ جو جعرانہ وعمرة من العام المقبل في ذِي الْقَعْدَةِ وعمر سے لائے جہاں حسین کی لوٹ کیا تقسیم کی ذیقعدہ میں اور چوتھا مِنْ جَعْرَانَة حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْن في ندي وہ جو حج کے ساتھ ہوا۔-7۔71 الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةٌ مَعَ حَكيه ٣٠٣٤ - عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ آنها کم حج ۳۰۳۴- قررہ نے انٹر سے پوچھا کہ رسول اللہ نے کتنے حج أَنَّمَا رسُولُ اللهِ ﷺ قَالَ حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَر أربع کیے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک حج کیا اور چار عمرے کیے۔باقی (۳۰۳۰) یہ قیامت کے قریب ہو گا جب حضرت عینی نزول فریادیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کا حکم قیامت تک رہے گااور شوخ نہیں ہوا اور معلوم ہوا کہ حضرت مینی ضرور نازل ہو نگے اور معلوم ہوا کہ ہی شریعت پر عمل کریں گے اور وہ صاحب وحی ہیں نہ کہ متمذ ہب به مذاہب اہل تقلید جیسا کہ مقلدوں کا وہم باطل ہے کہ اس میں لازم آتی ہے تفصیل غیر نبی کی نبی پر و ذالک باطل۔۲۹۳