مسیح اور مہدیؑ — Page 528
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں سنن البر وان و مهترمیم 528 عکس حوالہ نمبر: 183 رسول اللہ کے ساتھ قبر میں مسیح کی معیت کا مطلب جنگوں کا بیان سورة الكهف وقال شعب من الخير الكهن حصہ کیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ادم من کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اور میر سے اور أبي هريرة وس قال أن یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیان کوئی بھی نہیں ہے اور وہ نازل ہونے والے ہیں۔جب تم انہیں دیکھو تو یوں پہچان سي والله نازل فاذ نی خون را لیتا کہ وہ درمیانے قد کے آدمی ہیں اور رنگ اُن کا سرخی و سفید کی کے درمیان ہے۔لوئی محسوس ہو گا جیسے اُن کے مربوع إلى الحمرة والبيا رأة يقطر وان ويصه بكل فعال کرتے پانی ٹپک رہا ہے حالانکہ ان کے مرکز تری پہنچی نہیں رہا والا روئی الصلیب ہوگی۔وہ لوگوں سے اسلام کے بچے لڑیں گے ، صلیب سهيلات الله کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گئے اللہ جزیہ موقوف کر دیں وتملك گے۔اللہ تعالئے اُن کے زمانے میں طبیعت اسلامیہ کے ز اربعین میں تمام جنتوں کو ختم کر دے گا۔دو دنبال کو قتل کریں گے اور لمون چالیس سال زمین میں رہنے کے بعد وفات پائیں گے۔اس مسلمان المسيح الله اُن پر نماز پڑھیں گے۔جاسوسی کا بیان ربنا اللصلح ناعمان بن عبد الرحمن حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا سے عدایت باكس في خبر الجسامة في ذب فاطمة بن ن عن أن سلمہ ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے الله صلى الله کا نہ عشاء میں تاخیر کر دی۔پھر تشریف لائے تو فرمایا کہ تجھے نمانه لسلة تمیم داری کی بات نے روکے رکھا جو انہوں نے ایک آدمی کے حوالے سے بیان کی کہ وہ ایک سمندر ہی جزیزہ سے میں نیک ما أنت قالت أنا الجساس الجناة عورت کے پاس پہنچا ہو اپنے بالوں کو کھینچ رہی تھی۔کھا۔کون ہے ؟ اور سنہ نے کہا کہ میں جاسوسی کرنے والی ہوں پر اس محل کی طرف جاؤ۔میں گیا تو ایک آدمی اپنے اته فإذا رجل والوں کو کتنی رہا تھا۔دو طوق اور زنجیروں میں جکڑا میرا زمین ر تلسل في الأغلال يرونما آسمان کے درمیان پھڑک رہا تھا ، میں نے کہا :۔تو گون ہے! فقلت من انت ائی سنے کہا میں تقبال ہوں۔کیا امتیوں کے بنھا کا ظہور ہو گیا ہے؟ فقال أنا الدجال الحرة من الان بعد میں نے کہا ہاں۔اُس نے کہا کہ لوگوں نے ان کی اطاعت قلت نعم قال أ أطاعوه ام عضوة قلت بل کی ہے یا نا فرمانی ؟ میں نے کہا کہ وہ وقت کی ہے۔اس نے کہا کہ میں ان کے لیے بہتر ہے۔لك خير لير جلد سوم