مسیح اور مہدیؑ — Page 517
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 517 رسول اللہ کے ساتھ قبر میں مسیح کی معیت کا مطلب صحیح بخاری عکس حوالہ نمبر : 178 نم پاره 4 کتاب الجنائز وسلو ما هي إلا قدم عُمر وَ عَن هِشَامٍ عَن اور اسی اسناد سے ہشام سے روایت ہے انہوں نے اپنے باپنے انہوں نے أبيه عن عائشة أنها اوضت عبد الله بن حضرت عائشہ نے انہوں نے مرتے وقت عبداللہ بن زیر کو میت کی مجھ کو نہیں الزبير لا تشد في مهر و اديتي مع مراحى صاحب اور ابوبکر اور عمر کے پاس نہ گانا ایک رات میں میری مومنوں کے پاس دفن بالبقيع لا ادگی به ابدا - کر دینا میں نہیں چاہتی کہان کے ساتھ میری تعریون بھی ہیں کرتے - حدثنا شيبة قال حدثنا جرير بن عَبدِ ہم سے قیدیہ نے بیان کیا کہا ہم سے جریر نے کہا ہم سے حصین نے الحميد قال حدثنا حصين بن عبد الرحمن | امو نے عمر دین میں سے نہوں نے کہا میں نے حضرت عمر کو اس عمرو بن ميمون الاردي قَالَ سَر آيت سرایت وقت دیکھا جب وہ زخمی ہوئے، انہوں نے کہ عبداللہ ام المومنین عالنت عمر صدیقہ پاس جا دور کہ عمران کو سلام کہتا ہے پھر ان سے عرض کر کیا ہیں اپنے ام الله على بن الْخَطَّابِ قَالَ يَا عَبْدَ اللهِ بن عُمَر اذْهَبُ إِلَى امَ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَقُل دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہوں (عبداللہ گئے اور ایسا ہی پیغام پہنچایا) الخطاب عليكِ السَّلام تو سکتا حضرت عائشہ نےکہا یہ جگہ میں نے اپنے لیے لکھی تھی مگرمیں آج ان کو اپنے عمر بن أن أدفن مع صاحبة قالت كنت أريد النقيق اوپر مقدم رکھوں گی عبداللہ لا کر آئے تو ضرت عمر نے پوچھا کیا ہوا ہونے فَلا وَثِرَتْهُ اليوم على نَفْسِي فَلَمَّا اقبل قال له کیا حضرت عائشہ نے اجازت دی حضرت کہ ہم نے کہا چھ کو اس جگہ دفن ہونے ما لديك قال أذنت لك يا امير المؤمنين کا بڑا خیال تھا اتنا یا کسی بات کا نہ تھا جب میں مر جاؤں تو ایسا کر یہ اتنا قال ما كان شي اهمر الى من ذلك المضحم اٹھا کر لے جاؤ اور حضرت عائشتہ کو سلام کو اور عرض کرو کہ کرہ آپ کے حجرے میں عمر بن الخطاب فإن اذن لي ما تعنوني کے مقبرے میں دفن کر دنیا دیکھو خلافت کا حق دار ہیں ان چند لوگوں سے وَإِلَّا فَرُدُّ ين اني لا اعلم بڑھ کر کسی کو نہیں پاتا جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وفات تک راضی احدا أحق بهذا الأمر من هول النفر الذين رہے ہیں پھر یہ لوگ جس کو خلیفہ بنا ئیں میرے بعد دو ہی خلیفہ ہے اس تُونِي رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم وَهُوَ کی بات سنتا اور اس کا کا ماننا حضرت عمر نے حضرت عثمان حضرت علی عنم راض فَمَنِ استقلفوا بعدي فهو الخليفة اور طلحہ اور زبیر اور عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص کا نام لیا البقیہ صفحہ سابقہ نے یہ حجرے گرانے شروع کیے اس وقت ایک پاؤں اندر سے نمودار ہوا عروہ نے بتایا کہ یہ حضرت عمرض کا پاؤں ہے منہ (حواشی صفی ہا) اے حضرت عائشہ صدیقہ کی کرنسی تھی انوں نے فرمایا میں اس لائق نہیں کہ لوگ میری تعریف کریں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے ساتھ دفن ہونگی تو لوگ آپ کے ساتھ میرا بھی ذکر کریں گے اور دوسری بیبیوں پر میری ترجیح اور تفضیلت بیان کریں گے کہ وہ سب بقیع میں دفن ہوئیں اور میں خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کے ساتھ جو منہ سے سبحان اللہ یہ حضرت عمران کی بڑی احتیاط اور حق شناسی تھی انہوں نے یہ خیال کیا کہ شاید حضرت عائشہ نے میری مروت سے اور یہ سمجھ کر مکہ میں امیر المومنین ہوں اس کی اجازت دے دی ہو لیکن دل سے نہ چاہتی ہوں تو میرے بعد پھر اجازت لینا مرنے کے بعد پھر کچھ دباؤ نہیں رہتا اوستہ مسالے عشر مبشرہ میں سے بھی لوگ موجود تھے ابو جیدہ بن الجراج کا انتقال ہو چکا تھا اور سعید بن زیاد گو زندہ تھے ہاتی برنز آئندہ