مسیح اور مہدیؑ — Page 515
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 515 رسول اللہ کے ساتھ قبر میں مسیحی کی معیت کا مطلب مكواة مترجم جلد سوم عکس حوالہ نمبر : 177 کتاب الفتن ك وعنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ائن سے ہی روایت ہے کو زمون بیلہ میلے اشرستان علیہ وسلم نے فرمایا۔عليه وسلم الله ليز لن ابن مريم حكما عادلا خدا کی قسم، این مریم تر می رود نازل ہوں گے عام عادل کی صورت میں دھ فليكسرت الصليب دليل الي زيرو لیفت فرید صلیب کو توڑیں گے بستر پر کر تل کر دیں گے، جب یہ موقوف کریں گے۔الجِزْيَةِ وَكَيْر الْقِلَاصَ فَلا سی منیا جوان اور نبیوں کو کھلی پھوڑ دیں گے ،اُن سے محنت کا کوئی کام نہیں کیا الله والتعامد کے محور دشمنی آپس میں بھی رکھنا، ایک دوسرے سے حسد کر ناشتم د خون إلى المال فلا يقبلة أحد رواد ہو جائے گا۔دو مان کی طرف لوگوں کو بلائیں گے لیکن کوئی قبول نہیں کرے مسلم دَ فِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ كَيف انت داخل کار مسلم اور بخاری و مسلم کی ایک روایت میں فرمایا او تمارا کیا حال ہو گیا جب میشی من مرغی تم میں نازل ہوں گے اور تمام امام تم میں سے ہوگا۔يقال قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى حضرت عباسیہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ملے الله عليه وبالمول مال من ان يقاتلون الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میری امت ہوا ایک شدہ قیامت تک خلبے امر قال فی قول کے ساتھ ہمیشہ جن کی خاطر یہ تا ر ہے گا۔فرمایا کہ عیسی بن مریم نازل انھیں على الحي عيسى ابن مريم میر و تعالی مل گئے تو ان کو امیر کے گوا۔آتے ہیں نمانہ پڑھائیے، دو فرمائیں گے یہ لنا فيقول لا ان بعضكم على بعين امر او نہیں ، تم ہی آپس میں ایک دوسرے کے امام ہو۔یہ اللہ تعالٰی نے اس تكرمة اللو هذه الأمة (رواه مسلم امت کو عزت بخشی ہے۔دوسری فصل وهذا الباب مَالِ عَنِ الْعَصَلِ الثَّانِي - اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔تیسری فصل ۵۲۷۳ عن عبد الله بن عمرو قال قال حضرت عبداله بن عمر روانی اش عالی عنہ سے روایت ہے کرون مي إلى قبري فاخر في قبر واحد بان الى عسى الله صلے اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ، علی بن مریم زمین کی طرف نازل ہوں گے۔پس شادی کریں گے انسان کی اولاد ہو گی اور انتالیس سال ہے کر وفات پائیں گے۔وہ میرے ساتھ میری قبر میں دفن کیے جائیں گے۔ریک پیس میں اور عیسی بن مریم دونوں ایک ہی قبر سے ابو بکر اور عمر کے بیان ہٹیں گے اسے ابن الجوں نے کتاب افراد میں سر میت کیا ہے۔ارداد بن الجوزي في كِتَابِ الوَفَاءِ)