مسیح اور مہدیؑ — Page 417
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 417 امام مہدی کے لئے چاند اور سورج کی آسمانی گواہی بعض لوگ اس پیشگوئی کے مقررہ تاریخوں میں ظاہر ہو جانے کے باوجود اس حدیث کی سند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کا سوال اٹھاتے ہیں۔اس بارہ میں یادرکھنا چاہئے کہ یہ روایت اہل بیت رسول کے معزز فرد اور حضرت امام حسین کے پوتے سے بیان ہوئی ہے اور ائمہ اہل بیت سے ان کی صداقت اور وجاہت و مرتبت کی وجہ سے سند کا تقاضا نہیں کیا جاتا تھا۔مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اہل بیت کے بلا سند اقوال رسول اللہ کی طرف منسوب کر دئے جاتے تھے۔خود حضرت امام محمد باقر سے جب ان کی بلا سند حدیث کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے ہمیشہ کے لئے اپنی روایات کے متعلق یہ پختہ اصول بیان فرما دیا کہ میں جب کوئی حدیث بیان کرتا ہوں اور ساتھ اس کی سند بیان نہیں کرتا تو اس کی سند اس طرح ہوتی ہے کہ بیان کیا مجھ سے میرے پدر بزرگوار ( علی زین العابدین) نے اور ان سے میرے جد نامدار امام حسین علیہ السلام نے اور ان سے ان کے جد امجد جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ سے جبریل علیہ السلام نے بیان کیا اور ان سے خدا وند عالم 149 نے ارشاد فرمایا۔( بحار الانوار مترجم جلد 4 صفحہ 71 محفوظ بک ایجنسی کراچی ) پس حضرت امام محمد باقر کی بلا سند روایات کا مطالعہ بھی ان کے سند سے متعلق اپنے بیان کردہ اصول کے مطابق کرنا لازم ہے۔مزید برآں یہ حدیث تو ایک غیبی امر پر مشتمل تھی پھر امام محمد باقر اپنے پاس سے کوئی پیشگوئی از خود کیسے گھڑ سکتے تھے اور پیشگوئی بھی ایسی جو تیرہ سو برس بعد من و عن پوری ہو جائے ایسی کھلی کھلی غیب کی بات بتلانا بجز نبی کے کسی کا کام نہیں۔پس بلائبہ یہ ایک حیرت انگیز نشان ہے جو تیرہ صدیوں میں کبھی کسی مدعی مہدویت کے حق میں ظاہر ہوا نہ کسی دعویدار نے اسے پیش کیا۔حضرت مرزا صاحب کس شان اور تحدی سے فرماتے ہیں: دو مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے میری تصدیق کے لئے آسمان پر یہ نشان ظاہر کیا ہے۔۔۔میں خانہ کعبہ میں کھڑا ہو کر حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ اس نشان سے صدی کی تعیین ہوگئی ہے۔کیونکہ جبکہ یہ نشان چودھویں صدی میں ایک شخص کی تصدیق کے لئے ظہور میں آیا تو متعین ہو گیا کہ 66 آنحضرت نے مہدی کے ظہور کے لئے چودھویں صدی ہی قرار دی تھی۔“ (تحفہ گولڑویہ صفحہ 33 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 143 ایڈیشن 2008)