مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 356 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 356

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 356 دجال کی قوت و شوکت اور مشر د قبال کی حقیقت صحیح انتخاری متر جیم جلد دوم کی عکس حوالہ نمبر: 121 لو پاره تمبر ۱۸ کتاب المغازي ) ١٥٢١ - حَدَّكَ أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزُّهْرِي ١٥٢١ ہم سے ابوالیمان ( حکم بن نافع) نے بیان کیا کیا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں حدثني عروة بن الزيرِ وَأَبَر سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ نے زہری سے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر اور ابو سلمہ میمان عبد الرحمن نے بیان کیا ان سے ام أخبرتهما أن صفية بنت حتى المومنين عائشہ صدیقہ نے انہوں نے کہا ام المومنین صفیہ کو عین حجتہ الوداع میں حَاضَتْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ التي حیض آگیا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا اس کی وجہ سے ہم رکے رہیں گے ؟ میں نے اجابتنا هِيَ فَقُلْتُ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ يَا رَسُولَ اللهِ عرض کیا یار سول اللہ وہ تو مکہ کو لوٹ کر طواف الزيارة کر چکی ہیں۔آپ نے فرمایا تو پھر کیا وَطَالَتْ بِالْبَيْتِ فَقَالَ النَّبِيِّ ﷺ فَلْتَنفِرُ ہے (ہمارے ساتھ ) کوچ کرنے طواف الودنیا کی ضرورت نہیں۔عائشة زوج ا زوج النبي ـمد الله و بين ظهر ١٥٢٢ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْن سُلَيْمَانَ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ ۱۵۲۲۔ہم سے یحیی بن سلیمان نے بیان کیا کہا مجھ کو عبد اللہ بن وہب نے کہا مجھ سے عمر وَهَب قَالَ حَدَّلَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّلَهُ عَنِ ابْنِ من محمد نے بیان کیا ان سے ان کے واللہ محمد بن زید بن عبد اللہ بن عمر نے بیان کیا۔انہوں نے عُمَر رَضِي الله عنهما قال كنا تتحدث بحجة الوداع عبد اللہ بن عمر سے انہوں نے کہا ہم تجد الوون کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔اس وقت آنحضرت ا حجة الوداع ہم لوگوں میں (زندہ) تھے ہم کو نہیں معلوم تھا مجتہ الوداع کے کیا معنی خیر آپ الدجال فاطلب مﷺ نے اللہ کی تعریف کی اس کی شکایات کی پھر مسیح الدجال کا خوب لمباؤ کر کیا۔فرمایا الله ذِكْرهِ وَقَالَ مَا بَعَثَ الله۔امنه انذر نے کوئی پیغمبر ایسا نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو اس سے نہ ڈر لیا ہو۔یہاں تک کہ حضرت توح صور ان کے بعد والے پیغمبروں نے بھی ڈر لیا۔آپ نے فرمایا وہ (قیامت کے قریب) ضرور نکلے گا اگر تم کو اور کوئی دلیل (اس کے جھوٹے ہونے کی نہ معلوم ہو تو بھی یہ دنیل کافی ہے کہ وہ (سر دوں گانا ہوگا۔تمہارا پرور دگار ( جل شانہ کانا نہیں ہے وہ تو مہر عیب سے نوح والنبيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ عَلَيْكُمْ مِنْ شَانِهِ فَلَهُم ما يخفي عليكم : عين اليمنى كان عَيْهُ عِبَةٌ طَافِيَةٌ أَلا إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ پاک ہے۔وحال داہنی آنکھ کا کانا ہو گا اس کی آنکھ ایسی ہو گی جیسے پھولا انگور سن لو! اللہ تعالی دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا نے مسلمانوں کے خون اور مال حرام کیے ہیں جیسے اس دن کو حرام کیا ( یعنی عرفہ کے دن فِي شَهْرَكُمْ هَذَا أَلَا هَلْ بَلقْتَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللهُمُ اشہد کو اس شہر میں اس سینے میں دیکھو میں نے اللہ کا حکم تم کو پہنچا دیا۔لوگوں نے عرض کیا قلالا ويلكُمْ أَوْ وَيْحَكُمُ انظُرُوا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كَفَار چی بلد آپ ﷺ نے فرمایا اللہ گو اور ہیں۔تین بار نیسی فریاد یکھو تمہاری فراملی یا تم پر يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْض۔افسوس ہوں نہ کرنا میرے حد اسلام سے پھر کر کا فر ہو جائے۔مسلمین کی گردن مارنے لگو ١٥٢٣ - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حدثنا زهير حدثنا أبو ۱۵۲۳۔ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے کہا ہم سے إِسْحَاق قَالَ حَدَّثَنِي زيد بن أرقم أن البينه غزا ابواسحاقی منشی نے کہا مجھ سے زید عربی ار تم نے۔انہوں نے کہا آنحضرت ﷺ نے يسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَأَنَّهُ حَج بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةُ وَاحِدَةً انيس جہاد کیسے اور ہجرت کے بعد آپ ﷺ نے ایک ہی حج کیا یعنی بجھوائے۔اس کے لَمْ يَحْجُ بَعْدَهَا حَجَّةَ الْوَدَاع قَالَ أَبو إسحاق وبمكة بعد کوئی حج نہیں کیا۔ابو اسحاق نے کہا آپ ا نے ایک حج اس وقت بھی کیا جب مکہ میں تھے۔(مدینہ کو ہجرت نہیں کی تھی کہے اخرى ١٥٢٤ - حَدَنَا حَفْصِ بْنَ عُمَرَ حَدَّنَا شَعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ ۱۵۲۴ ہم سے حفص نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ عن مجلرج نے انہوں نے علمی من مُدْرَةٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةً : بن جرير عن جرير الله ملک سے انہوں نے وزرعد بن عمر عن جریر سے آنحضرت ﷺ نے حجتہ الوداع میں أبي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ جَرِيرٍ ه قال في حَجَّةِ الْوَدَاع لجرير التنصيب الناس جریرین عبدالله محلی سے فرمایا لوگوں کو خاموش کرد (تا کہ میری بات سنیں)۔پھر فرمایا نَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كَفَّارًا يَضْرِب بَعْضُكُم رقاب بَعْض لو گو میرے بعد ایسانہ کر ایک دوسرے کی گردن مار کر کا فرین جاؤ۔١٥٢٥ - حَدَّلَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثْنى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّاب ۱۵۲۵۔ہم سے محمد بن مفتی نے بیان کیا کیا ہم سے عبد الوہاب ثقفی نے کہا ہم سے ایوب حدثنا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ سختیانی نے انہوں نے محمد بن سیرینا سے انہوں نے عبد الرحمن بین بلی پہرہ سے انہوں نے عن النبي ع قَالَ الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَةِ يَوْمَ خَلَقَ یکرہ سے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے آپ نے ( حجتہ الوداع میں فرمایا زمانہ پھر گھوم السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ النَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةُ کر اسی حال پر آگیا جس حال پر اس دن تھا جس دن اللہ تعالے نے آسمان زمین بنائے تھے۔حرم للالة متواليات ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّم ويجھو بارہ مہینے کا ایک سال ہوتا ہے ان میں پے در پے تین مہینے حرام ہیں۔ذیقعد ذی مجد