مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 346 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 346

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں صحیح التفارق مترجم جلد دارم که 346 عکس حوالہ نمبر : 118 ب ۲۲۳ شریا کی بلندی سے ایمان واپس لانے والا سیح و مہدی پارہ نمبر ٢٠ كتاب تفسير القرآن کے ۸۷۱ - بَاب قَوْله إلى ذكر الله۔وآخرين منهم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَقَرَأَ عُمَرُ فَامْضُوا واخرين منهم لما يلحقوابهم كى تغير حضرت عمر نے جائے فاسعوا الى ذكر الله کے فامضوا الی ذکر اللہ پڑھا ہے۔۲۰ حداني عبد العزيز بن عبد الله قال حدثنی ۲۰۰۲ مجھ سے عبد العزیز بن عبداللہ لو میں نے بیان کیا کہا مجھ کو سے سلیمان بن بلال سليمان بن بقال عَنْ لَوْرٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَن أبي هريرة نے انہوں نے ٹورین زید دیلی سے، انہوں نے ابو الغیث (سالم) سے انہوں نے اور ہر میڈ الله عَنْهم قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِندَ التي لا تولت سے انہوں نے کہا ہم آنحضرت ﷺ کے پاس مجھے تھے آپ کے پر سورہ جمعہ اتری جب اس آیت پر پہنچے وآخرين منهم لما يلحقوا بهم تو میں نے عرض کیا جی ہاں الله رة الجمعة ) وآخرين منهم ؟ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ ) رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُراجعة حتى سال یار سول اللہ یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب نہ دیا میں نے تین بار یکی پو چھا اس نا وفينا سلمان الفارسي رسول الله عبده وقت ہم لوگوں میں سلمان فارسی مجھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ ان پر رکھا۔عَلَى سَلْمَاتِ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ الْإِيمَان عِندَ الشريا لَنَالَهُ رِجَالٌ پھر فرمایا اگر ایمان (ثریا) پروین ستارے پر ہوتا۔زمین سے اتنا لو نجا تب بھی ان لوگوں یعنی فارس والوں) میں سے کئی آدمی اس تک پہنچ جاتے۔یا یوں فرمایا ایک آدمی ان لوگوں میں سے اس تک ہو جاتا۔اورجل مِن هر ۲۰۰۳- حَدَّنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا ۲۰۰۳۔ہم سے عبد اللہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا کہا ہم سے عبد العزیز ور اور دی نے عبد العزيز أخبَرَنِي تَوْرُ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَن کیا مجھ سے کو ثورین زید دیلی نے انہوں نے ابو اللیث (سالم) سے انہوں نے ابو ہریرہ سے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے کیا حدیث بیان کی اس میں یوں ہے کہ آدمی ان النبي الَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ -٢٠٠٤ ۷۲ - باب لوگوں میں سے اس تک پہنچ جاتے۔و افتراء تجارة كي تغير باب ( وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةٌ أَوْ لَهْوًا )۔حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ بن ۲۰۰۴ - ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا کہا ہم سے خالد بن عبد اللہ نے کہا ہم سے عبْدِ اللهِ حَدَّثَنَا حصين عن سالم بن أبي الْجَعْدِ وَعَن أبي حسین بن عبدالرحمن نے انہوں نے سالمین علی المجعد اور عمو سفیان طلحہ بن نافع سے ان سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ۔اللهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَتْ دونوں نے جابر بن عبد اللہ سے انہوں نے کیا ایسا ہوا جمعہ کے دن غلبہ کا ایک قافلہ (مدینہ عير يَوْمَ الْجُمْعَةِ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَارَ النَّاسُ إِلا انني میں آن پہنچا اس وقت ہم آنحضرت ﷺ کے پاس (خطبہ سن رہے تھے) سب لوگ عشر رَجُل فَأَنزَلَ اللَّهُ (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا او ہر چل دیئے صرف یادہ آدمی آپ ﷺ کے پاس رہ گئے۔تب اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری وادر او اتجاره او لهوا انفضوا اليها۔إلَيْهَا وَتَرَكُوا قَائِما۔سورَةُ الْمُنَافِقِينَ۔۸۷۳- بَاب قَوْلُهُ سورہ منافقوانا کی تفسیر باب إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ) إذا جاءك المنافقون قالو تشهد انك لرسول الله اخیر آیت کافیون تک کی تغیر إِلَى ( لَكَاذِبُونَ )۔٢٠٠٥ - خدنَا عَبْدُاللَّهِ بْن رَجَاء حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلَ عَنْ ۲۰۰۵۔ہم سے عبد اللہ بن رجاء نے بیان کیا کیا ہم سے اسرائیل بن یونس نے انھوں أبي إسحاق عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنتَ فِي غَرَاہ نے ابو اسحاق سے انہوں نے زید بن ارقم سے انہوں نے کہا میں ایک لڑائی ( غزوہ تبوک) السمعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ أَبِي يَقُولُ لَا تُنفِقُوا عَلَى مَنْ عِندَ میں تھانہ میں نے عبد اللہ بن املی (منافقی) کو یہ کہتے سنالو گو ! تم ایسا کرو پیمبر میں ہے کے رسول الله حتى يَنفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ وَلَئِن رَجَنَ مِنْ عِندِهِ پاس جو لوگ (مہاجرین) ہیں۔ان کو خرچ کے لیے نہ وہ خود پیغمبر (صاحب) کو اليخرجن الأعز منها الأذل فذكرت ذلِكَ لِعَمي أو يعمر چھوڑ کر اس کے پاس سے الگ ہو جائیں گے۔اور اگر ہم اس لڑائی سے لوٹ کر مدینہ پہنچے