مسیح اور مہدیؑ — Page 337
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں مرقاز شرع مشكوة أبو الدرهم 337 عکس حوالہ نمبر : 116 116 قیامت سے پہلے دس نشانات كتاب الفتن C مذکورہ بالا حدیث اور بخاری کی اس حديث: ان اول اشراط الساعة نار تخرج من المشرق الى المغرب (قیامت کی نشانیوں میں سے پہلی نشانی وہ آگ ہو گی جو مشرق سے مغرب کی طرف نکلے گی ) میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اس حدیث میں جو اس نشانی کو آخری نشانی کہنا ند کورہ بالا نشانیوں کے اعتبارے ہے اور بخاری کی روایت میں آگ کو جو پہلی نشانی کہا، اس اعتبار سے ہے کہ آگ قیامت کی ان نشانیوں میں سے جن کے بعد دنیا کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی ، سب سے پہلی نشانی ہوگی ، بلکہ اس کے ختم ہوتے ہی صور پھونکا جائے گا، بخلاف ان نشانیوں کے جن کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے، کہ ان میں سے ہر نشانی کے بعد دنیا کی چیزیں باقی رہیں گی۔بعض محققین علماء نے اسی طرح ذکر کیا ہے۔نطرد : بمعنی تسوق ( ہانکے گی) اور فاعل کی ضمیر کا مرجع "النار“ ہے۔محشر باشین کو مفتوح اور مسور دونوں طرح پڑھنا درست ہے۔بمعنی مجمع و موقف ( جمع ہونے کی جگہ کھڑا ہونیکی جگہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ” محشر سے مراد ملک شام ہے، کیونکہ ایک صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے کہ حشر ملک شام میں ہو گا لیکن بظاہر مراد یہ ہے کہ اس آگ کی ابتداء ملک شام سے ہوگی یا ملک شام کی زمین اس قدر وسیع کر دی جائے گی، کہ پورے عالم کے لوگ اس میں سما جائیں گے۔قوله: نار تخرج من قعر عدن تسوق الناس الى المحشر: قعر عدن“ سے مراد اس زمین کی آخری حد ہے۔عدن غیر منصرف ہے لقحہ کی تاویل میں ہونے کے اعتبار سے۔اور بعض کا کہنا ہے کہ ” و موضع " کی تاویل میں ہونے کے اعتبار سے منصرف ہے۔مشارق میں لکھا ہے : کہ عدن " یمن کے ایک مشہور شہر کا نام ہے۔قاموس میں لکھا ہے، عدن وال کی حرکت کے ساتھ یمن کا ایک جزیرہ ہے۔قوله : وريح تلقى الناس في البحر ان دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اس دوسری روایت میں الناس ( لوگوں ) سے مراد کفار ہیں، اور ان کی آگ کے ساتھ ایسی تیز ہوا بھی ہوگی کہ جس کے اثر سے تیزی کے ساتھ یہ لوگ سمندر میں گر جائیں گے، اور وہیں سمندر ان کفار کے حشر کی جگہ ہوگی یا نجار کا ٹھکانہ ہو گا، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، کہ سمندر آگ بن جائے گا، اور اسی کو قرآن کریم کی اس آیت ( وَإِذَا الْبِحَارُ سُجرَت )) (التکویر: 1] اور جب دریا بھڑ ہائے جاویں گے میں بیان کیا گیا ہے، بخلاف مؤمنین کئے کہ ان کے لئے جو آگ نکلے گی، وہ بمنزلہ کوڑے کے صرف ڈرانے اور ان لوگوں کو موقف اعظم میدان حشر کی طرف ہانکنے کیلئے ہوگی۔واللہ تعالیٰ اعلم۔تخریج: ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔۵۴۹۵ : وعَنْ أبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِنا الدُّحَانَ وَالدَّجَّالَ وَدَابَّةَ الْأَرْضِ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَآمُرَ العَامَّةِ وَحُوَيْصَةً أَحَدِكُمْ۔