مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 333 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 333

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 333 قیامت سے پہلے دس نشانات ۳۸:۲۳ عکس حوالہ نمبر 114 مشقی ۲۵:۲۴ اور جو تیرے پاس بھیجے گئے ان کو سنگسار کرتا ہے ! کتنی بار میں (4) اس وقت لوگ تم کو ایذا دینے کے لیئے پکڑوائیں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی گے اور تم کو قتل کریں گے اور میرے نام کی خاطر سب قو میں تم ہے اُسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کرلوں مگر تم نے نہ سے عداوت رکھیں گی (10) اور اُس وقت بہتیرے ٹھوکر چاہا ! (۳۸) دیکھو تمہارا گھر تمہارے لیئے ویران چھوڑا جاتا کھائیں گے اور ایک دوسرے کو پکڑوائیں گے اور ایک ہے ے (۳۹) کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے مجھے پھر دوسرے سے عداوت رکھیں گے (1) اور بہت سے جھوٹے برٹیز نہ دیکھو گے جب تک نہ کہو گے کہ مبارک ہے وہ جو نہی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو ٹھمراہ کریں گے۔خُداوند کے نام سے آتا ہے ؟ (۱۲) اور بے دینی کے بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبت ٹھنڈی شوع پر وسیم کی بربادی کی بات کرتا ہے پڑ جائے گی (۱۳) مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائے گیان (۱۴) اور بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں (مرقس ۱:۱۳-۲؛ لو ق ۲۱: ۲۵ ) ۲۴ ) اور پینوع میکل سے نکل کر جارہا تھا کہ اس کے شاگرد ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔تب خاتمہ ہوگا Q اُس کے پاس آئے تاکہ اُسے ہیکل کی عمارتیں دکھائیں ؟ اُجاڑ نے والی لکڑ وہ چیز (۲) اُس نے جواب میں اُن سے کہا کیا تم ان سب چیزوں کو ( مرقس ۱۴:۱۳-۲۳؛ کو ق ۲۱: ۲۰-۲۳) | نہیں دیکھتے ؟ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کسی پتھر پر (۱۵) پس جب تم اُس اُجاڑ نے والی مکر وہ چیز کو جس کا ذکر دانی ایل نبی کی معرفت ہوا۔مقدس مقام میں کھڑا ہوا پھر باقی نہر ہے گا جو گرایا نہ جائے گا مصیبتیں اور ایذائیں (مرقس ۱۳:۱۳ ۱۳ و ۷:۲۱-۱۹) دیکھو ( پڑھنے والا سمجھ لے ) (۱۲) تو جو یہودیہ میں ہوں وہ (۳) اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے پہاڑوں پر بھاگ جائیں (۱۷) جو کو شھے پر ہو وہ اپنے گھر کا شار گردوں نے الگ اُس کے پاس آکر کیا ہم کو بتا کہ یہ اسباب لینے کو نیچے نہ اترے (۱۸) اور جو کھیت میں ہو وہ اپنا باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا کپڑا لینے کو پیچھے نہ کونے (۱۹) مگر افسوس ان پر جو ان دنوں نشان کیا ہوگا ؟ میں حاملہ ہوں اور جو دودھ پلاتی ہوں ! (۲۰) پس دُعا کرو کہ (۴) منوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ خبردار! کوئی تم کو جاڑوں میں یا سبت کے دن بھاگنا نہ پینے (۲) کیونکہ اس تم کو گمراہ نہ کر دے Q(۵) کیونکہ بہتیرے میرے نام سے وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ اسب تک آئیں گے اور کہیں گے میں میسیج بنوں اور بہت سے لوگوں کو ہوئی نہ کبھی ہوگی (۲۲) اور اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر گمراہ کریں گے (1) اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو نہ بچتا۔مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائیں گے گے۔خبردار! گھبرا نہ جانا ! کیونکہ ان باتوں کا واقع ہونا ضرور (۲۳) اس وقت اگر کوئی تم ست کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے لیکن اُس وقت خاتمہ نہ ہو گا (4) کیونکہ قوم پر قوم اور ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا (۲۴) کیونکہ جھوٹے مسیح اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور اور بھونچال آئیں گے (۸) لیکن یہ سب باتیں مصیبتوں کا عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو بر گزیدوں کو بھی گمراہ شروع ہی ہوں گی۔کرلیں ۵ (۳۵) دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے؟ ۳۸