مسیح اور مہدیؑ — Page 233
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 233 عالم اسلام کا زوال اور ظہور مہدی مسند امام احمد بن مقبل رسید مترجم عکس حوالہ نمبر : 78 هستند جابری بنو نے انہیں بتایا کہ اللہ نے پورا کر دیا بلکہ اتنی کھجور بچ بھی گئی ، پھر میں نے گھر آ کر اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ نبی علیہ سے کوئی بات نہ کرنا ؟ اس نے کہا کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبی علیہ کو میرے گھر لے کر آئے اور وہ جانے لگیں تو میں ان سے اپنے لیے اور اپنے شوہر کے لئے دعاء کی درخواست بھی نہ کروں گی؟ ( ١٥٣٥٦ ) حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٌّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلا قَدْ ظُلْلَ عَلَيْهِ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرَّ أَنْ يَصُومَ بن في السَّفَرِ [راجع: ١٤٢٤٢]۔(۱۵۳۵۶) حضرت جابر ﷺ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی میں نے دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہا ہے، پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا ، نبی علیہا نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔( ١٥٣٥٧ ) حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضِ أَوْ مَاءٍ فَلْيَزَرَعُهَا أَو لِيُزْرِعُهَا أَخَاهُ وَلَا تَبِيعُوهَا فَسَأَلْتُ سَعِيدًا ما لا تبيعُوهَا الْكِرَاء قَالَ نَهُمْ [ صححه مسلم (٧١٥))۔(۱۵۳۵۷) حضرت جابر ﷺ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زائد زمین یا پانی ہو اسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے، یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دے دے، کرایہ پر نہ دے۔( ١٥٣٥٨ ) حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ جَابِرٍ بُنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَالَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا كَعب عُجُرَةَ أُعِيدُكَ بِاللَّهِ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ قَالَ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ أَمْرَاء سَيَكُونُونَ مِنْ بَعْدِى مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِحَدِيثِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظَلْمِهِمْ فَلَيْسُوا مِنِّى وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَمْ يَرِدُوا عَلَى الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقُهُمْ بِحَدِينِهِمْ وَلَمْ يُعَنهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَأُولَئِكَ يَرِدُونَ عَلَى الْحَوْضَ يَا كَعْبُ عُجُرَةَ الصَّلَاةُ قُرُبَان وَالصَّوْمُ جُنَّةَ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِي الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِى الْمَاءُ النَّارَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجرَةَ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْرٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ يَا كَعْبُ بنَ عُجْرَةَ النَّاسُ غَادِيَانِ فَقَادٍ بَائِعٌ نَفْسَهُ وَمُوبَقٌ رَقَبَتَهُ وَعَادٍ مُبْتَاعَ نَفْسَهُ وَمُعين رَقَبَتَهُ [راجع: ١٤٤٩٤]۔(۱۵۳۵۸) حضرت جابر ﷺ سے مروی ہے کہ نبی علی نے ایک مرتبہ حضرت کعب بن حجر ہ اللہ سے فرمایا اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے بچائے ، انہوں نے پوچھا کہ ہو تو نوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے؟ نبی الیہ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ حکمرانا ہیں جو میرے بعد آئیں گے ، جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق کریں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کریں گے ، ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ، اور یہ لوگ حوض کوثر پر بھی میرے پاس نہ آسکین ہے لیکن جو لوگ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق نہ تو £