مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 185 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 185

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 185 موعود امام امت محمدیہ کا ایک فرد انبیاء علیہم السلام کا بیان عکس حوالہ نمبر : 60 720 ٣٤٤٩- حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ (۳۴۴۹) ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نَافِعٍ مَولَى ان سے یونس نے ان سے ابن شہاب نے، ان سے حضرت ابو قتادہ أبي قتادة الأنصاري أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ انصاری منی شہ کے غلام نافع نے اور ان سے حضرت ابو ہریرہ بنی نور نے الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : بیان کیا کہ رسول کریم سلیم نے فرمایا تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا كيف أنتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ جب عیسی ابن مریم تم میں اتریں گے (تم نماز پڑھ رہے ہو گے) اور وإمامُكُمْ مِنكُمْ) تَابَعَهُ عُقيل والأوزاعي۔تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔اس روایت کی متابعت عقیل اور اوزاعی نے کی۔راجع: ٢٢٢٢] لشيخ آخر زمانہ میں حضرت عیسی ابن مریم اسلام کے آسمان سے نازل ہونے پر امت اسلامیہ کا اجماع ہے۔آیت قرآنی و ان من اهل الكتاب الخ اس عقیدہ پر نص قطعی ہے اور احادیث صحیحہ اس بارے میں موجود ہیں۔اس زمانہ آخر میں چند نیچری قسم کے لوگوں نے اس عقیدہ کا انکار کیا اور پنجاب کے ایک شخص مرزا قادیانی نے اس انکار کو بہت کچھ اچھالا اور جملہ مسلمانان سلف و خلف کے خلاف ان کی موت کا عقیدہ باطلہ مشہور کیا جو صریح باطل ہے۔کسی بھی راسخ الایمان مسلمان کو ایسے بد عقیدہ لوگوں کی بخوات سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔٥٠ - باب مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ باب بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان۔٣٤٥٠- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ (۳۴۵۰) ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم حدثنا أبو عوانة حدثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ سے ابو عوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الملک نے بیان کیا، ان سے عُمر عَنْ رَبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ ربعی بن حراش نے بیان کیا کہ حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن عمرو الحذَيْفَةَ: أَلا تُحَدِّتُنَا مَا سَمِعْتَ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کیا آپ وہ حدیث ہم سے مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ نہیں بیان کریں گے جو آپ نے رسول اللہ سے سنی تھی؟ انہوں نے يقول: ((اتْ مَعَ الدَّجَالِ إِذَا خَرَجَ مَاء کہا کہ میں نے آنحضرت میں مسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جب دجال نکلے گا ونارًا، فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسَ أَنْهَا النَّارُ تو اس کے ساتھ آگ اور پانی دونوں ہوں گے لیکن لوگوں کو جو آگ فمَاءً بَارِدَ، وَأَمَّا الَّذِي يرى الناس أنه ماء دکھائی دے گی وہ ٹھنڈا پانی ہو گا اور لوگوں کو جو ٹھنڈا پانی دکھائی دے گا بَارِدُ فَنَارُ تُحْرِقُ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنكُمْ فلبقع تو وہ جلانے والی آگ ہو گی۔اس لئے تم میں سے جو کوئی اس کے في الذي يُرى أنها ناز۔فَإِنَّهُ عَذَبٌ زمانے میں ہو تو اسے اس میں گرنا چاہئے جو آگ ہو گی۔کیونکہ وہی انتہائی شیریں اور ٹھنڈا پانی ہو گا۔بارة) | صرفه في : ٧١٣٠] أَنَّهُ ٣٤٥١- قال حذيفة: ((وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: (۳۴۵۱) حضرت حذیفہ بھی نہ نے فرمایا کہ میں نے آنحضرت سلیم کو یہ إنَّ رَجُلاً كَانَ فِيْمَنُ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ الْمَلَك فرماتے سنا تھا کہ پہلے زمانے میں ایک شخص کے پاس ملک الموت ان ليَقْضَ رُوحَهُ، فَقِيلَ لَهُ : هل عملت من کی روح قبض کرنے آئے تو ان سے پوچھا گیا کوئی اپی نیکی تمہیں یاد هَلْ عَمِلْتَ